Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 672

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" وَفِي رِوَايَةٍ: "وَتَحْتَ الْمَطَرِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: "وَتَحْتَ الْمَطَرِ".

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ثنتان لا تردان أو قلما تردان: الدعاء عند النداء، وعند البأس حين يلحم بعضهم بعضا" وفي رواية: "وتحت المطر". رواه أبو داود والدارمي إلا أنه لم يذكر: "وتحت المطر".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعدسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں یا بہت کم رد کی جاتی ہیں اذان کے وقت کی دعا ۱؎اورجہادکے وقت کی دعا جب بعض بعض کو قتل کررہے ہوں۲؎اورایک روایت میں ہے کہ بارش کے وقت کی دعا۳؎(ابوداؤد،دارمی)مگر دارمی نے بارش کا ذکر نہ کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤذن کے اذان سے فارغ ہوتے ہی نہ کہ دورانِ اذان میں کہ وہ جواب اذان کا وقت ہے۔
۲
؎یعنی عین کشت وخون کی حالت میں جب غازی کافروں کوقتل کررہے ہوں اورکافروں کے ہاتھوں شہید ہورہے ہوں کہ وہ بہترین عبادت ہے۔یُلْحِمُ اِلْحَامسے بنا،بمعنی گوشت کاٹنا یعنی قتل کرنا۔
۳
؎بعض لوگوں نےتحتکی وجہ سے فرمایابارش کے نیچے کھڑے ہوکربھیگتے ہوئے دعامانگے مگرصحیح یہی ہے کہ بارش کے وقت کہیں بھی دعا مانگے قبول ہوگی،خصوصًا رحمت کی بارش جو انتظار اور دعاؤں کے بعد آئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 672