Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 673

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُوْنَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُلْ كَمَا يَقُوْلُوْنَ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رجل: يا رسول الله إن المؤذنين يفضلوننا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قل كما يقولون، فإذا انتهيت فسل تعط". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ مؤذن لوگ ہم سے بڑھ جائیں گے ۱؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے وہ کہتے ہیں تم بھی کہہ لیاکرو ۲؎جب فارغ ہوجاؤ تو مانگ لیا کرو دیئے جاؤ گے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قیامت میں ہم ان کے درجے تک نہ پہنچ سکیں گے کیونکہ تمام عبادات میں ہم اور وہ برابر ہیں اور اذان میں وہ ہم سے بڑھے ہوئے۔معلوم ہوا کہ دینی کاموں میں رشک جائزبلکہ کبھی عبادت ہے۔
۲
؎اس سےمعلوم ہوا کہ اذان کے سارے کلمات مؤذن کے ساتھ کہے حتی کہ "حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ"اور "حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ"بھی مگران دونوں کے ساتھلَاحَوْلَبھی پڑھ لے۔اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔
۳
؎یعنی جودعاچاہومانگو۔بہتر یہ ہے کہ اولًا حضور کے لیے وسیلہ کی دعا مانگے،پھر اپنے لئے دعائیں،تاکہ تمام حدیثوں پرعمل ہو جائے،مسلمان عمومًا وسیلہ کے بعداسی دعا میں یہ بھی کہہ لیتے ہیں"وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ"۔وہابی اس سے منع کرتے ہیں اوربدعت کہہ کر روکتے ہیں شاید انہیں حضور کی شفاعت کی ضرورت نہ ہوگی۔وہ اس حدیث سے عبرت پکڑیں کہ یہاںسَلمطلق فرمایا گیا۔مرقاۃ نے اس جگہ بہت سی دعائیں بتائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 673