Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 660

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيْرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُوْلُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عَلَى الْفِطْرَةِ"، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ". فَنَظَرُوْا إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ رَاعِيْ مِعزًى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يغير إذا طلع الفجر، وكان يستمع الأذان، فإن سمع أذانا أمسك وإلا أغار، فسمع رجلا يقول: الله أكبر الله أكبر ، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "على الفطرة"، ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"خرجت من النار". فنظروا إليه فإذا هو راعي معزى. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجرطلوع ہونے پرحملہ کرتے تھے ۱؎اذان پر کان لگاتے تھے اگراذان سن لیتے تو باز رہتے ورنہ حملہ کردیتے ۲؎ایک شخص کو کہتے سنااَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فطرت پرہے پھر اس نے کہاأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُتوحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو آگ سے نکل گیا صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریاں چرانے والا تھا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب جہاد میں کفار کے علاقہ پرشاہانہ حملہ کرتے تو صبح کے وقت اذان کا انتظار کرتے کیونکہ یہ وقت عبادات کی قبولیت اور رحمت الٰہی کے نزول کاہے اورجہادبھی عبادت ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ اذان مصیبتوں کو دفع کرتی ہے،سرکار اذان کی آواز سے یہ پتہ لگاتے تھے کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے جہاں مسلمان آزادی سے اپنی عبادتیں کررہے ہیں۔کفار کا زورنہیں لہذایہاں جہاد کی ضرورت نہیں کیونکہ جہادکفر کا زور توڑنے کے لیے ہوتا ہے نہ کہ کافروں کو جبرًا مسلمان کرنے کے لیے۔
۳
؎حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے کے متعلق چندگواہیاں دیں:ایک یہ کہ اس وقت یہ سچا مسلمان ہے۔دوسرے یہ کہ اس کا خاتمہ ایمان پرہوگا۔تیسرے یہ کہ اس کے سارے گناہوں کی معافی ہوگی۔معلوم ہوا کہ حضور ہر ایک کے دل کا حال بھی جانتے ہیں اورسب کے انجام سے بھی خبردارہیں،کیوں نہ ہو کہ لوح محفوظ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 660