Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 667

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهٗ مَدٰى صَوْتِهٖ، وَيَشْهَدُ لَهٗ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهٗ خَمْسُ وَّعِشْرُونَ صَلَاةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلَى قَوْلِهٖ: "كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ". وَقَالَ: "وَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰى".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المؤذن يغفر له مدى صوته، ويشهد له كل رطب ويابس، وشاهد الصلاة يكتب له خمس وعشرون صلاة، ويكفر عنه ما بينهما". رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه، وروى النسائي إلى قوله: "كل رطب ويابس". وقال: "وله مثل أجر من صلى".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤذن کی اس آوازکی انتہا کے مطابق بخشش کی جاتی ہے ۱؎اور اس کے لئے ہرتروخشک چیزگواہی دے گی اورنمازمیں حاضرہونے والے کے لئے پچیس نمازیں لکھی جاتی ہیں ۲؎اور دونمازوں کے درمیانی گناہ مٹائے جاتے ہیں(احمد،ابو داؤد،ابن ماجہ)نسائی نے ہرخشک و تر تک روایت کی اورفرمایا کہ مؤذن کو سب نمازیوں کے برابرثواب ملتا ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس قدر اس کی آواز زیادہ اسی قدر اس کی مغفرت زیادہ۔آہستہ اذان کہنے والے کے صرف گناہ کبیرہ کی معافی اور بلندآواز سے کہنے والے کے صغیرہ کبیرہ سب معاف۔یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں مؤذن کی اذان کی برکت سے وہاں تک کہ گنہگاروں کی معافی ہوتی ہے جہاں تک اس کی آوازپہنچے کہ یہ ان سب کی شفاعت کرے گا۔
۲
؎یعنی مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب اکیلے اورگھرمیں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ہے۔خیال رہے کہ یہاں۲۵ گنافرمایا گیا اوردوسری روایت میں ۲۷ گنا،بعض میں ۵۰۰ گناہے کیونکہ جیسی مسجد،جیسی جماعت اورجیسا امام ویساثواب۔جن خوش نصیبوں نے مسجدنبوی میں جماعت صحابہ کے ساتھ حضورکے پیچھے نمازیں پڑھیں ان کا ایک سجدہ دوسروں کی کروڑوں نمازوں سے افضل ہے۔
۳
؎یعنی اس کی اذان سے جتنے لوگ مسجدمیں آکر یا اپنے گھر میں نماز پڑھتے ہیں ان سب کا مجموعی ثواب مؤذن کو ملتاہے کیونکہ یہ ان سب کا رہبرہے اوران سب کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 667