Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 664

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِيْنَ مُحْتَسِبًا كُتِبَ لَهٗ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أذن سبع سنين محتسبا كتب له براءة من النار". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سات برس صرف ثواب کے لئے اذان دے تو اس کے لئے آگ سے خلاصی لکھی جاتی ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جوبغیرتنخواہ سات سال اذان دے تو رب تعالٰی اسے جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کا پروانہ(پاسپورٹ اورویزہ)لکھ دیتا ہے جو قیامت میں اسے دیا جائے گا،جس سے بے کھٹک وہ دوزخ سے گزرکر جنت میں داخل ہوگا۔بعض مؤذن یہ طے کرلیتے ہیں کہ ہم تنخواہ مسجدکی صفائی وغیرہ کی لیں گے اذانفی سبیل اللهدیں گے ان کا ماخذیہ حدیث ہے۔ان شاء اللهاس کاضرورفیض پائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 664