Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 657

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللّٰهَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا يَنْبَغِيْ إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ، وَأَرْجُوْ أَنْ أَكُوْنَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول، ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا، ثم سلوا الله لي الوسيلة، فإنها منزلة في الجنة، لا ينبغي إلا لعبد من عباد الله، وأرجو أن أكون أنا هو، فمن سأل لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمروبن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم مؤذن کوسنو تو تم بھی اسی طرح کہوجو وہ کہہ رہا ہے ۱؎پھرمجھ پر درودبھیجو کیونکہ جومجھ پرایک درودبھیجتاہے اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۲؎پھر اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگو وہ جنت میں ایک جگہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ۳؎تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس پرمیری شفاعت لازم ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ کلمات اذان سارے دہرائے "حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ" بھی"حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ" بھی اور "اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم"بھی۔اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ "حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ" اور"حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ" پر "لَاحَوْلَ" پڑھے۔چاہیئے کہ دونوں ہی کہہ لیا کرے تاکہ دونوں حدیثوں پرعمل ہوجائے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعددرودشریف پڑھناسنت ہے،بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں،ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھناسنت ہے۔خیال رہے کہ اذان سے پہلے یا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے،بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔
۳
؎خیال رہے کہ وسیلہ سبب اورتوسل کو کہتے ہیں،چونکہ اس جگہ پہنچنا رب سے قرب خصوصی کا سبب ہے،اس لیے وسیلہ فرمایا گیا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ "امیدکرتا ہوں"تواضع اورانکساری کے لئے ہے ورنہ وہ جگہ حضور کے لئے نامزدہوچکی ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)ہمارا حضور کے لیے وسیلہ کی دعاکرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیرامیرکے دروازے پرصدا لگاتے وقت اس کی جان ومال کی دعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے،ہم بھکاری ہیں،حضورداتا،انہیں دعائیں دینا،مانگنے،کھانے کا ڈھنگ ہے۔
۴
؎یعنی میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی شفاعت ضرورکروں گا۔یہاں شفاعت سے خاص شفاعت مراد ہے،ورنہ حضورہر مؤمن کے شفیع ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بہت قسم کی ہے۔شفاعت کی پوری بحث اور اس کی قسمیں ہماری کتاب "تفسیرنعیمی" جلدسوم میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 657