Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 677

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: "وَأَنَا وَأَنَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سمع المؤذن يتشهد قال: "وأنا وأنا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو شہادتین کہتے سنتے تو فرماتے اور میں بھی اور میں بھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں بھی اللہ کی توحید اوراپنی رسالت پرگواہی دیتا ہوں۔خیال رہے کہ ہم توحیدورسالت کی گواہی سن کر دے رہے ہیں اورحضوردیکھ کر کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی ذا ت وصفات اورسارے عالم غیب کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے،نیزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم ہمارے لیے علم حضوری کیونکہ رسالت آپ کا اپنا وصف ہے،نیزحضور کا کلمہ یہ بھی تھا"اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ"اوریہ بھی کہ "اَشْھَدُاَنِّیْ رَسُوْلُ اللهِ"میں اللہ کا رسول ہوں،کبھی اس طرح کلمہ پڑھتے تھے،کبھی اس طرح۔اگر ہم کہہ دیں کہ میں رسول اللہ ہوں تو کافرہوجائیں۔ایک کلمہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کلمہ ایمان ہے اور ہمارے لیے کفر۔التحیاتمیں بھی ہم پڑھتے ہیں"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ"حضورصلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسےبھی پڑھتے تھے،اورکبھی"السلام علی"۔(ازمرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 677