Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 659

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ،وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِيْ وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهٗ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال حين يسمع النداء: اللهم رب هذه الدعوة التامة،والصلاة القائمة، آت محمدا الوسيلة والفضيلة، وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته، حلت له شفاعتي يوم القيامة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اذان سنتے وقت یہ کہاکرے یااللہ اس عام دعوت اور کامل نماز کے رب محمدمصطفی کو وسیلہ اور بزرگی دے اور انہیں اس مقام محمود پرپہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ۱؎تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہوگی ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ جنت میں حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاص مقام کا نام"وسیلہ"ہے اورقیامت میں حضورکے مقام کانام "مقام محمود"ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) دولہا بنائے جائیں گے،سارے اولین و آخرین،کفار و مؤمن ین،انبیاء و مرسلین،بلکہ خود رب العالمین حضور کی ایسی تعریفیں کریں گے جو آج ہمارے خیال و وہم سے وراءہیں،وہ مقام نہ معلوم کیسا عظیم الشان ہے جس کا رب نے قرآن شریف میں اعلان فرمایا اورہم لوگوں کو ہراذان کے بعد اس کی دعا مانگنے کا حکم دیا گیا،اسی مقام پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم "شفاعت کبریٰ" فرمائیں گے اوریہیں سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر"دروازۂ شفاعت"کھلے گا۔
۲
؎یعنی اس دعا کی برکت سے اسے ایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا اوروہ میری شفاعت عامہ و خاصہ کامستحق ہوگا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ اذان کے بعد دعابہت قبول ہوتی ہے،لہذا مصیبت زدہ کو چاہیئے کہ اس وقت دعا مانگا کرے اسی لیے مسلمان اس دعا کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے ہیں"وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ" خدایا ہمیں ان کی شفاعت نصیب کر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 659