Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 665

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِيْ غَنَمٍ فِيْ رَأْسِ شَظِيَّةٍ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّيْ، فَيَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوْا إِلٰى عَبْدِيْ هٰذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيْمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّيْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِيْ، وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يعجب ربك من راعي غنم في رأس شظية للجبل يؤذن بالصلاة ويصلي، فيقول الله عز وجل: انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة، يخاف مني، قد غفرت لعبدي، وأدخلته الجنة". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامرسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارا رب اس بکری چرانے والے سے خوش ہوتا ہے جوپہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہونماز کی اذانیں دے اورنماز پڑھے ۲؎اللہ تعالٰی فرماتاہے ۳؎میرے اس بندے کو دیکھو ۴؎اذان دیتاہے نمازقائم کرتا ہے مجھ سے ڈرتاہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا ۵؎(ابو داؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہورصحابی ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے عقبہ ابن ابی سفیان کی وفات کے بعدمصرکے والی بنے،پھر امیرمعاویہ نے معزول کردیا،۵۸ھمیں مصر میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی دنیا کے جھگڑوں سے دور رہے،اپنی روزی خودکمائے اورنماز اگرچہ اکیلے پڑھے مگر اذا ن دے کر۔معلوم ہوا کہ نماز پنجگانہ کے لئے اذان بہرحال دے اگرچہ جنگل میں اکیلے نماز پڑھے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ اذان کی برکت سے جنات و فرشتے بھی اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں،اور اسے جماعت کا ثواب ملتا ہے۔تکبیرمیں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ تکبیربھی کہے کیونکہ اذان وتکبیر میں نماز کی اطلاع کے علاوہ اوربہت سے فائدے ہیں۔
۳
؎فرشتوں سے انبیاءواولیاءکی روحوں سے بلکہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی۔(مرقاۃ)
۴
؎معلوم ہوا کہ فرشتوں اورنبیوں،ولیوں کی روحوں میں یہ طاقت ہے کہ ایک جگہ رہ کرسارے عالَم کو دیکھ لیں کہ پروردگاران سے فرماتا ہے اس پہاڑ پر چھپے بندے کو دیکھو،اس سے مسئلہ حاضرناظرحل ہوا۔
۵
؎اس سے چندمسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ کبھی دنیا سے علیحدگی مشغولیت سے بہتر ہے۔دوسرے یہ کہ کبھی تنہائی کی عبادت علانیہ عبادت سے افضل ہے،کہ علانیہ میں ریاءکا خطرہ ہے اس میں نہیں۔تیسرے یہ کہ اکیلا آدمی بھی اپنی نماز کے لیے اذان وتکبیر کہے مگر محلےکی مسجد کی اذان اہل محلہ کے لیے کافی ہوتی ہے۔چوتھے یہ کہ فرشتے وانبیاءواولیاءہمارے دلوں کے اخلاص ریاءوغیرہ سے واقف ہیں اوراس کو دیکھتے ہیں،رب نےاُنْظُرُوْاکے بعدیَخَافُفرمایا۔پانچویں یہ کہ اللہ کے مقبول بندے لوگوں کے انجام سے خبردار ہیں،رب نے انہیں مغفرت اورعذابوں کی خبردے دی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 665