Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 959

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كنت أعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز ختم ہونا تکبیر سے پہچانتا تھا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں زمانہ نبوی میں بہت کم عمر تھا اس لیے کبھی کبھی جماعت میں حاضر نہ ہوتا مگر حضور صلی الله علیہ وسلم اور تمام صحابہ نمازکے بعد اتنی بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے کہ گھروں میں آواز پہنچ جاتی تھی اور ہم پہچان لیا کرتے تھے کہ نماز ختم ہوگئی۔ بعض مشائخ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے تین بار کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں،پنجاب میں فجر اور عشاء کے بعد اونچی آواز سے درود شریف پڑھا جاتا ہے ان سب کا ماخذ یہی حدیث ہے بلکہ مسلم شریف میں ہے کہ نمازوں کے بعد ذکر بالجہر حضور صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں عام مروج تھا۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو،یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں"وَاذْکُرۡ رَّبَّكَ فِیۡ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً" اس لیے کہ آیت میں اخفاء کی نمازوں کی تلاوت مراد ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس ذکر بالجہر سے ان نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے جو اپنی فوت شدہ رکعتیں پوری کررہے ہیں مگر ان کا یہ قیاس حدیث کے مقابل ہے،نیز وہ لوگ تشریق کی تکبیروں اور حاجی کے تلبیوں اور حرم شریف کی نمازوں میں کیا کریں گے کہ ان سب میں بڑا شور ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 959