Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 970

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لأن أقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة الغداة حتى تطلع الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة من ولد إسماعيل ولأن أقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة العصر إلى أن تغرب الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کہ میرا ان لوگوں سے بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک الله کا ذکر کرتے ہیں مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ اولاد اسماعیل کے چار غلام آزاد کروں ۱؎اور میرا اس قوم کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک الله کا ذکر کریں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ چار غلام آزاد کردوں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ اس بیٹھنے میں چار عبادتیں ہیں:اچھوں کی صحبت الله کا ذکر،مسجد کی حاضری اور نماز اشراق کا انتظار،ان میں سے ہر عبادت ایک غلام آزاد کرنے سے افضل اس لیے چار غلاموں کا ذکر فرمایا گیا،نیز اولا د اسماعیل دوسرے لوگوں سے افضل ہے اس لیے ان کے چار غلام آزاد کرنا دوسرے غلام کے آزاد کرنے سے افضل۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز اشراق تک مسجد میں ٹھہرنا اور صالحین کے ساتھ بیٹھنا اور الله کا ذکر کرنا بہت بہتر ہے۔ الله کے ذکر میں دعا، تلاوت قرآن،علم دین اور صالحین کا ذکر سب شامل ہے۔(ازمرقاۃ) اکثر لوگ اس وقت تلاوت قرآن کرتے ہیں ان کا ماخذ یہی حدیث ہے۔بعض فقہاء نے سورج طلوع ہوتے وقت تلاوت کو غیر مستحب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سجدہ نہیں ہوسکتا اور کبھی تلاوت کے دوران سجدے کی آیت بھی آجاتی ہے۔
۲
؎بعض صوفیاء عصر سے مغرب تک مسجدوں میں مراقبے کرتے ہیں کسی سے کلام نہیں کرتے،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ فجر کے بعد مسجد میں بیٹھنا اس بیٹھنے سے افضل ہے کیونکہ وہاں چار اسمعیلی غلاموں کا ذکر تھا، یہاں مطلقًا چار فرمائے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک عرب غلام نہیں بنائے جاسکتے لہذا اولاد اسمعیل سے مراد غیر عرب مراد ہوں گے یا یہ حکم فرضًا ہے(ازمرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 970