- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 972
باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 972
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكَنّٰى أَبَا رَمْثَةَ قَالَ صَلَّيْتُ هٰذِهٖ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هٰذِهٖ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهٖ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلّٰى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهٖ وَعَنْ يَسَارِهٖ حَتّٰى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رَمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهٗ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمِنْكَبَیْهِ فَهَزَّهٗ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ فَإِنَّهٗ لَن يَهْلِكَ أَهلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصْرَهٗ فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عن الأزرق بن قيس قال: صلى بنا إمام لنا يكنى أبا رمثة قال صليت هذه الصلاة أو مثل هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وكان أبو بكر وعمر يقومان في الصف المقدم عن يمينه وكان رجل قد شهد التكبيرة الأولى من الصلاة فصلى نبي الله صلى الله عليه وسلم ثم سلم عن يمينه وعن يساره حتى رأينا بياض خديه ثم انفتل كانفتال أبي رمثة يعني نفسه فقام الرجل الذي أدرك معه التكبيرة الأولى من الصلاة يشفع فوثب عمر فأخذ بمنكبیه فهزه ثم قال اجلس فإنه لن يهلك أهل الكتاب إلا أنه لم يكن بين صلواتهم فصل. فرفع النبي صلى الله عليه وسلم بصره فقال: «أصاب الله بك يا ابن الخطاب» . رواه أبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ازرق ابن قیس سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو ہمارے امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہی نماز یا اس کی مثل کوئی اور نماز رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ۲؎فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر اگلی صف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے داہنے کھڑے ہوتے تھے۳؎اور ایک شخص نماز کی پہلی تکبیر میں حاضر ہوا تھا نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر داہنے بائیں سلام پھیرا حتی کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۴؎پھر ابو رمثہ یعنی میرے طرف پھرے ۵؎تو جس نے نماز کی پہلی تکبیر پائی تھی وہ نفل پڑھنے کھڑا ہوگیا ۶؎تب حضرت عمر جلدی اٹھے اور اس کے کندھے پکڑکر ہلائے پھر فرمایا بیٹھ جا ۷؎کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ تھا ۸؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے الله تمہیں مصیب رکھے ۹؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎آپ تابعی ہیں،حارثی ہیں،بصرہ میں پیدائش ہوئی،کوفہ میں قیام رہا،عالم باعمل تھے،۱۲۱ھ∞ میں وفات ہوئی۔
۲؎ابو رمثہ صحابی ہیں،انہوں نے تابعین کو نماز ظہر یا عصر پڑھا کر یہ فرمایا کہ ہم نے ایک بار یہی نماز یا دوسری کوئی اور نماز حضور علیہ السلام کے پیچھے پڑھی تھی تو یہ واقعہ پیش آیا۔
۳؎کیونکہ حضور علیہ السلام کے پیچھے افضل صحابہ کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان نمازیوں میں حضور علیہ السلام انہیں امام بنا کر خود وضو کے لیے جاسکیں۔ اس سے معلوم ہواکہ پہلی صف کا داہنا حصہ باقی مقامات سے افضل ہے۔
۴؎یعنی داہنی طرف والوں نے داہنے رخسار کی سفیدی دیکھی اور بائیں والوں نے بائیں رخسار کی"رَاَیْنَا"جمع فرمایا۔تکبیر اولیٰ سے مراد تکبیر تحریمہ ہے اس کے پانے کی صورت یہ ہے کہ امام کے قرأت شروع کرنے سے پہلے مقتدی سبحان سے فارغ ہو جائے اس کے بارے میں کچھ اوربھی قول ہیں۔
۵؎یعنی بعد سلام دعا مانگنے کے لیے داہنی جانب منہ کرکے بیٹھے جیسے میں بیٹھا ہوں۔
۶؎یعنی وہ شخص مسبوق نہ تھا تاکہ فرض کی بقیہ رکعتیں پوری کرنے کھڑا ہوتا بلکہ مدرک تھا جو بعد والی سنتیں پڑھنے کے لیئے دعا مانگے بغیر کھڑا ہوا۔
۷؎یعنی بیٹھ کرحضور علیہ السلام کے ساتھ دعا مانگ، جب سرکار اور سارے مسلمان دعا سے اٹھیں تو تو بھی اٹھ نماز سے فارغ ہونے اور مسجد سے نکلنے میں جلدی نہ کر۔اس سے معلوم ہوا کہ جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں بھی فرضوں کے بعد دعا مانگی جائے اگرچہ مختصر ہی ہو۔
۸؎یعنی انہیں حکم دیا گیا تھا کہ فرائض اور نوافل کے درمیان دعا کا بھی فاصلہ کریں اور اگر ہوسکے تو جگہ کا بھی مگر اس پر عمل نہ کیا فرض و نفل ملا کر پڑھے جس سے ان کے دل سخت ہوگئے اور ہزاروں گناہ کر بیٹھے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہلَنْ یَّھْلِكَنفی مستقبل ہے مگر یہاں ماضی کی نفی استمرار کے لیے استعمال ہوا جیسے"اَللهُ یَجْتَبِیْ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِمیںیَجْتَبِیْمضارع ہے مگر ماضی کے دوام کے لیے آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب پرنمازیں فرض تھیں اور ان نمازوں میں کچھ فرائض کچھ نوافل۔
۹؎یعنی جیسے تم نے یہ مسئلہ صحیح بیان کیا ایسے ہی ہمیشہ ہر کام میں درستی پر رہو۔معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام خوش ہوئے اور آپ کی دعا فاروق اعظم کو ایسی لگی کہ آپ ہمیشہ سیاسی اور مذہبی امور میں حق پر ہی رہے باطل ان کے قریب بھی نہ آیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 972