- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 965
باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 965
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: (إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهٖ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهٖ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ذٰلِك فَضْلُ اللهِ يُؤْتِیْهِ مَنْ يَشَاءُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَيْسَ قَوْلُ أَبِي صَالِحٍ إِلٰى اَخِرِهٖ إِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا » . بَدْلَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ
وعن أبي هريرة قال: (إن فقراء المهاجرين أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: قد ذهب أهل الدثور بالدرجات العلی والنعيم المقيم فقال وما ذاك قالوا يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ويتصدقون ولا نتصدق ويعتقون ولا نعتق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفلا أعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم وتسبقون به من بعدكم ولا يكون أحد أفضل منكم إلا من صنع مثل ما صنعتم» قالوا بلی يا رسول الله قال: «تسبحون وتكبرون وتحمدون دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين مرة» . قال أبو صالح: فرجع فقراء المهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا سمع إخواننا أهل الأموال بما فعلنا ففعلوا مثله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ذلك فضل الله يؤتیه من يشاء» (متفق عليه) وليس قول أبي صالح إلى اخره إلا عند مسلم وفي رواية للبخاري: «تسبحون في دبر كل صلاة عشرا وتحمدون عشرا وتكبرون عشرا » . بدل ثلاثا وثلاثين
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے ۱؎فرمایا یہ کیسے؟ عرض کیا جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے کہ ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ۲؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس سے تم آگے والوں کو پکڑلو اور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ۳؎اور تم میں سے کوئی افضل نہ ہو اس کے سوا جو تمہارے کام کرے۴؎بولے ہاں یارسول الله فرمایا ہر نماز کے بعد۳۳،۳۳بار تسبیح،تکبیر اور حمدکرو ۵؎ابو صالح کہتے ہیں ۶؎کہ پھر مہاجر فقراءحضور انورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سن لیا تو انہوں نے بھی یونہی کیا ۷؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے دے ۸؎ (مسلم، بخاری)ابو صالح کا قول صرف مسلم کی روایت میں ہے اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح ،دس بار حمد، دس بار تکبیر کہو بجائے ۳۳ بار کے ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی ہمارے مقابل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مستحق ہوگئے اس میں نہ تو رب کی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حسد بلکہ ان پر رشک ہے دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا،حسد حرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زوال کی خواہش۔
۲؎یعنی بدنی عبادتوں میں وہ ہمارے برابر ہیں اور مالی عبادتوں میں ہم سے بڑھ کر۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ شاکر غنی صابرفقیرسے افضل ہے مگر صحیح یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل کیونکہ رب نے فرمایا اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمتیں دیں گے،اور فرمایا کہ الله صابروں کے ساتھ ہے یعنی شکر سے نعمتیں ملتی ہیں اور صبر سے الله تعالیٰ۔
۳؎یہاں آگےاور پیچھے سے درجوں میں آگے پیچھے ہونا مراد ہے نہ کہ زمانہ میں یعنی جو صحابہ تم سے درجہ میں بڑھ گئے ہیں ان کلمات کی وجہ سے تم ان کے برابر ہوجاؤ گے اور جو تمہارے برابر ہیں اور یہ کلمات نہیں پڑھتے ان سے تم بڑھ جاؤ گے ورنہ غیرصحابی کتنی ہی نیکیاں کرے صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ صحبت یافتہ جناب مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سارے فرشتوں سے افضل کیونکہ وہ خادم انبیاء ہیں تو صحابہ بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل کیونکہ وہ خادم جناب مصطفے صلی الله علیہ وسلم ۔
یک زمانہ صحبتے با مصطفی بہتراز لکھ سالہ طاعت بے ریا
۴؎یعنی جو غنی صحابی یہ پڑھے گا وہ تم سے افضل ہوجائے گا۔
۵؎یعنی پنج گانہ نماز کے بعد۳۳بارسُبْحَانَ اللّٰهِ۳۳بارالحمدللّٰہاور۳۳بار اللهاکبرکہہ لیا کرو،یہ تسبیح فاطمہ کہلاتی ہے کیونکہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے قریبًا یہی تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کو بتائی تھی اسی بنا پر آج تسبیح کے دانوں میں۳۳ دانوں پر ایک نائب امام ڈالا جاتا ہے۔خیال رہے کہ ظہر مغرب عشاء میں یہ تسبیح سنتیں وغیرہ پڑھ کر پڑھی جائے گی۔
۶؎ابوصالح تابعی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی۔
۷؎ان کا مدعی یہ تھا کہ اب کوئی اور خفیہ عمل بتایا جائے وہ راز تو کھل گیا۔
۸؎یعنی اب تم صبر کرو اور رب کے دیئے پر راضی رہو۔ یہ غبطہ(رشک)بھی عبادت ہے اور تم اس پر صبر کرکے بڑا درجہ پاؤ گے۔
۹؎مگر پہلی روایت زیادہ قوی ہے،کیونکہ اس میں زیادتی ہے اور اسی پر امت کا عمل ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 965