Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 965

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: (إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهٖ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهٖ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ذٰلِك فَضْلُ اللهِ يُؤْتِیْهِ مَنْ يَشَاءُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَيْسَ قَوْلُ أَبِي صَالِحٍ إِلٰى اَخِرِهٖ إِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا » . بَدْلَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ

وعن أبي هريرة قال: (إن فقراء المهاجرين أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: قد ذهب أهل الدثور بالدرجات العلی والنعيم المقيم فقال وما ذاك قالوا يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ويتصدقون ولا نتصدق ويعتقون ولا نعتق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفلا أعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم وتسبقون به من بعدكم ولا يكون أحد أفضل منكم إلا من صنع مثل ما صنعتم» قالوا بلی يا رسول الله قال: «تسبحون وتكبرون وتحمدون دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين مرة» . قال أبو صالح: فرجع فقراء المهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا سمع إخواننا أهل الأموال بما فعلنا ففعلوا مثله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ذلك فضل الله يؤتیه من يشاء» (متفق عليه) وليس قول أبي صالح إلى اخره إلا عند مسلم وفي رواية للبخاري: «تسبحون في دبر كل صلاة عشرا وتحمدون عشرا وتكبرون عشرا » . بدل ثلاثا وثلاثين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے ۱؎فرمایا یہ کیسے؟ عرض کیا جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے کہ ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ۲؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس سے تم آگے والوں کو پکڑلو اور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ۳؎اور تم میں سے کوئی افضل نہ ہو اس کے سوا جو تمہارے کام کرے۴؎بولے ہاں یارسول الله فرمایا ہر نماز کے بعد۳۳،۳۳بار تسبیح،تکبیر اور حمدکرو ۵؎ابو صالح کہتے ہیں ۶؎کہ پھر مہاجر فقراءحضور انورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سن لیا تو انہوں نے بھی یونہی کیا ۷؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے دے ۸؎ (مسلم، بخاری)ابو صالح کا قول صرف مسلم کی روایت میں ہے اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح ،دس بار حمد، دس بار تکبیر کہو بجائے ۳۳ بار کے ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمارے مقابل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مستحق ہوگئے اس میں نہ تو رب کی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حسد بلکہ ان پر رشک ہے دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا،حسد حرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زوال کی خواہش۔
۲
؎یعنی بدنی عبادتوں میں وہ ہمارے برابر ہیں اور مالی عبادتوں میں ہم سے بڑھ کر۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ شاکر غنی صابرفقیرسے افضل ہے مگر صحیح یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل کیونکہ رب نے فرمایا اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمتیں دیں گے،اور فرمایا کہ الله صابروں کے ساتھ ہے یعنی شکر سے نعمتیں ملتی ہیں اور صبر سے الله تعالیٰ۔
۳
؎یہاں آگےاور پیچھے سے درجوں میں آگے پیچھے ہونا مراد ہے نہ کہ زمانہ میں یعنی جو صحابہ تم سے درجہ میں بڑھ گئے ہیں ان کلمات کی وجہ سے تم ان کے برابر ہوجاؤ گے اور جو تمہارے برابر ہیں اور یہ کلمات نہیں پڑھتے ان سے تم بڑھ جاؤ گے ورنہ غیرصحابی کتنی ہی نیکیاں کرے صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ صحبت یافتہ جناب مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سارے فرشتوں سے افضل کیونکہ وہ خادم انبیاء ہیں تو صحابہ بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل کیونکہ وہ خادم جناب مصطفے صلی الله علیہ وسلم ۔
یک زمانہ صحبتے با مصطفی بہتراز لکھ سالہ طاعت بے ریا
۴
؎یعنی جو غنی صحابی یہ پڑھے گا وہ تم سے افضل ہوجائے گا۔
۵
؎یعنی پنج گانہ نماز کے بعد۳۳بارسُبْحَانَ اللّٰهِ۳۳بارالحمدللّٰہاور۳۳بار اللهاکبرکہہ لیا کرو،یہ تسبیح فاطمہ کہلاتی ہے کیونکہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے قریبًا یہی تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کو بتائی تھی اسی بنا پر آج تسبیح کے دانوں میں۳۳ دانوں پر ایک نائب امام ڈالا جاتا ہے۔خیال رہے کہ ظہر مغرب عشاء میں یہ تسبیح سنتیں وغیرہ پڑھ کر پڑھی جائے گی۔
۶
؎ابوصالح تابعی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی۔
۷
؎ان کا مدعی یہ تھا کہ اب کوئی اور خفیہ عمل بتایا جائے وہ راز تو کھل گیا۔
۸
؎یعنی اب تم صبر کرو اور رب کے دیئے پر راضی رہو۔ یہ غبطہ(رشک)بھی عبادت ہے اور تم اس پر صبر کرکے بڑا درجہ پاؤ گے۔
۹
؎مگر پہلی روایت زیادہ قوی ہے،کیونکہ اس میں زیادتی ہے اور اسی پر امت کا عمل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 965