Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 977

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنَمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا لَمْ يَخْرُجْ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ هٰذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلیٰ قَوْمٍ أَفْضَلَ غَنِيمَةً وَأَفْضَلَ رَجْعَةً قَوْمًا شَهِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثمَّ جَلَسُوا يَذْكُرُونَ اللّٰهَ حَتّٰى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأُولَئِكَ أَسْرَعُ رَجْعَةً وَأَفْضَلُ غَنِيمَةً».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَمَّادُبْنُ أَبِيْ حُمَيْدِالرَّاوِیُّ هُوَضَعِيفٌ فِي الحَدِيْثِ

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعثا قبل نجد فغنموا غنائم كثيرة وأسرعوا الرجعة فقال رجل منا لم يخرج ما رأينا بعثا أسرع رجعة ولا أفضل غنيمة من هذا البعث فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «ألا أدلكم علی قوم أفضل غنيمة وأفضل رجعة قوما شهدوا صلاة الصبح ثم جلسوا يذكرون الله حتى طلعت الشمس، فأولئك أسرع رجعة وأفضل غنيمة».رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب وحمادبن أبي حميدالراوی هوضعيف في الحديث

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی الله عنہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا وہ بہت غنیمتیں لائے اور جلد لوٹ آئے ۱؎تو ہم میں سے ایک شخص بولا جو ان میں نہ گیا تھا کہ ہم نے کوئی ایسا لشکر نہ دیکھا جو اس لشکر سے جلد لوٹا ہو اور زیادہ غنیمت لایا ہو ۲؎تب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ قوم نہ بتاؤں جو غنیمت اور لوٹنے میں بہتر ہے وہ قوم ہے جو فجر کی نماز میں حاضر ہوں پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اس کا ذکر کریں یہ لوگ جلدی لوٹنے والے اور بہتر غنیمت والے ہیں ۳؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے حماد ابن ابی حمید راوی حدیث میں ضعیف ہیں۴؎

شرح حدیث

۱∞؎نجدعرب کا پانچواں صوبہ ہے حجا ز اور تہامہ کے درمیان،چونکہ یہ بلندی پر واقع ہے اس لیے نجدکہلاتا ہے،نجد کے معنے بلندی ہے۔
۲
؎یعنی یہ لشکر بڑا بابرکت ہے کہ سفر میں کم رہا مال بہت لے کر آیا۔خیال رہے کہ جس لشکر میں نبی صلی الله علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود تشریف نہ لے جائیں اسے سریہ کہا جاتا ہے۔غالبًا اس شخص نے یہ حسرت کے طور پر کہا ہوگا کہ کاش اس میں میں بھی جاتا اسی لیے حضور علیہ السلام نے اگلا جواب دیا۔
۳
؎یعنی غنیمت صرف مال ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اجرو ثواب کی بھی ہوتی ہے،اشراق پڑھنے والا جلدی گھر لوٹ آتا ہے اور پورا اجر لے کر آتا ہے۔
۴
؎چنانچہ انہیں بخاری نے منکر الحدیث فرمایا،نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہیں،ابن معین کہتے ہیں کہ ان کی حدیث کچھ نہیں،مرقاۃ نے فرمایا کہ ان کا حافظہ خراب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 977