Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 964

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّہٗ كَانَ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْن وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن سعد أنہ كان يعلم بنيه هؤلاء الكلمات ويقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ بهن دبر الصلاة: «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

رو ایت ہے حضرت سعد سے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے ۱؎اور کہتے تھے کہ رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم نماز کےبعد ان سے تعوذ کرتے تھے الٰہی میں بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور کنجوسی سے تیری پناہ۲؎اور ردی عمر سے تیری پناہ۳؎اور دنیا کے فتنوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بالغ و نابالغ سارے بچوں کو۔اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو اچھی باتیں سکھانا ماں باپ کا پہلا فرض ہے۔
۲
؎جبنکا مقابل شجاعت ہے،بخل کا مقابل سخا ہے اور شح کا مقابل جود۔بخیل وہ جو خود کھائے اوروں کو نہ کھلائے،شح وہ جو نہ کھائے نہ کھانے دے سب کچھ جمع کرکے چھوڑ جائے۔سخی وہ جوخود کھائے اوروں کو بھی کھلائے۔جواد وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کھلائے اسی لیے رب کو سخی نہیں کہتے جواد کہتے ہیں۔ الله کے حبیب لکھادھاری داتا کھاتے نہیں کھلاتے ہیں۔شعر
بوریا ممنوں خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے آتش
یہ دعا ہماری تعلیم کے لیے ہے حضور صلی الله علیہ وسلم تو پیدائشی کل کے راجہ ہیں جگ کے داتا ہیں۔
۳
؎یعنی بڑھاپے کی وہ حالت جب ہاتھ پاؤں جواب دے جائیں رب کی عبادت نہ کرسکے، دنیوی کام انجام نہ دے سکے، اس سے خدا کی پناہ۔
۴
؎ممکن ہے کہ یہ دعا حضور علیہ الصلوۃ والسلام ساری نمازوں خصوصًا تہجد کے بعد مانگتے ہوں،نماز پنج گانہ میں سنتوں سے فارغ ہوکر تاکہ یہ حدیث دیگراحادیث کے خلاف نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 964