Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5532

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ،كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن سهل بن سعد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يحشر الناس يوم القيامة على أرض بيضاء عفراء،كقرصة النقي ليس فيها علم لأحد". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ قیامت کے دن اس سفیدہ زمین میں جمع کیے جائیں گے۱∞؎جو میدہ کی روٹی کی طرح ہے۲؎جس میں کسی کا نشان نہ ہوگا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بیضاءبمعنی سفید،عفراءبمعنی مائل بہ سرخی یعنی زمین ہوگی تو سفید مگر خالص تیز سفید نہ ہوگی بلکہ سفیدی میں سرخی کی جھلک ہوگی۔۲؎قرصۃبمعنی ٹکیہ یا روٹی،یہقرصسے بنا ہے،شیخ سعدی نے گلستان میں فرمایا شعر
قرض خورشید در سیاہی شد یونس اندر دہان ماہی شد
نقیبمعنی میدہ،قرصۃمیں ت وحدت کی ہے یعنی ایک روٹی۔۳؎یعنی اس دن ساری روئے زمین پر نہ کسی کا مکان ہوگا،نہ باغ،نہ کھیت،نہ غار،نہ پہاڑ،صاف شفاف میدان ہوگا جس میں نہ کسی کو ٹھوکر لگے نہ کوئی غار میں گرے۔سب کی نظریں آسمان کی طرف ہوں گی اور زمین طے کرتے ہوں گے،اس طرح سب زمین شام تک پہنچیں گے جہاں قیامت کا اجتماع ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5532