- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5535
باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5535
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا" ثُمَّ قَرَأَ: " {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} ، وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ،وَإِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مذْ فَارَقْتَهُمْ. فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلى قَوْلِهِ:{الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن ابن عباس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إنكم محشورون حفاة عراة غرلا" ثم قرأ: " {كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين} ، وأول من يكسى يوم القيامة إبراهيم،وإن ناسا من أصحابي يؤخذ بهم ذات الشمال فأقول: أصيحابي أصيحابي، فيقول: إنهم لن يزالوا مرتدين على أعقابهم مذ فارقتهم. فأقول كما قال العبد الصالح: {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم} إلى قوله:{العزيز الحكيم}. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ تم حشر کیے جاؤ گے ننگے پاؤں، ننگے بدن بے ختنہ ۱∞؎پھر آپ نے تلاوت فرمائی کہ جیسے ہم نے اولاد پیدائش کی ابتداء کی تھی ویسے ہی لوٹائیں گے ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے ہم کرنے والے ہیں۲؎اور پہلے جسے لباس پہنایا جاوے گا قیامت کے دن وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۳؎اور میرے ساتھ والوں میں سے کچھ لوگ بائیں طرف پکڑ لیے جائیں گے۴؎تو میں فرماؤں گا کہ میرے ساتھ والے ہیں میرے ساتھ والے۵؎تو کہیں گے کہ یہ لوگ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے اپنی ایڑیوں پر لوٹے رہے۶؎تو جو اس نیک بندے نے کہا ہے وہ ہی میں کہوں گا کہ میں ان کا ذمہ دار نگران تھا جب میں ان میں رہاعزیز الحکیمتک۷؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اس فرمان عالی میںانکمفرماکر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں اٹھو گے ننگے بدن،ننگے پاؤں،بے ختنہ مگر تمام انبیاءکرام اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتی کہ بعض اولیاء الله بھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ ان کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میں قبر انور سے اُٹھوں گا اور فورًا مجھے جنتی جوڑا پہنا دیا جاوے گا لہذا یہاں اس فرمان عالی سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بلکہ تمام انبیاء،بعض اولیاء مستثنٰی ہیں۔(مرقات،اشعہ)اس لیے یہاںانتمفرمایانحننہیں فرمایا یہ خوب خیال رہے۔۲؎یعنی جیسے تم اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ایسے ہی اپنی قبروں کے پیٹ سے اٹھو گے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ننگے نہیں پیدا ہوئے تھے حریر میں لپٹے ہوئے پیدا ہوئے۔شعر
آنکھوں میں سرمہ بالوں میں شانہ دیا ہوا لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا
حضور فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکروعمر کے ساتھ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھیں گے،پھر جنت البقیع والوں کا انتظار فرمائیں گے،پھر مکہ معظمہ والے جنت معلی کے مردوں کا،پھر محشر کی طرف اس برات کے ساتھ جائیں گے ایسی حالت میں حضور بغیر لباس کیسے ہوسکتے ہیں۔(مرقات)۳؎یعنی کفن اتارکر جنتی جوڑا پہلے حضرت خلیل الله کو پہنایا جاوے۔یا تو اس حکم سے حضور علیحدہ ہیں متکلم مستثنٰی ہوتا ہے یا یہ بدلہ ہے اس کا کہ نمرودی آگ میں جاتے وقت آپ کے کپڑے اتار لیے گئے تھے یہ خصوصی فضیلت ہے۔(مرقات)نیز آپ ننگوں کو کپڑے پہناتے تھے،نیز آپ حضور انور کے جد امجد ہیں ان وجوہ سے آپ کا یہ اکرام فرمایا گیا۔۴؎اصیحابتصغیر ہےاصحابکی،یہاں شرعی صحابہ مراد نہیں کہ شرعًا صحابی وہ ہیں جنہیں بحالت ایمان حضور انور کی صحبت نصیب ہو اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہو بلکہ لغوی اصحاب مراد ہیں یعنی میرے پاس بیٹھنے والے لوگ۔یہ وہ لوگ ہیں جو حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے جیسے منکرین زکوۃ یا مسیلمہ کذاب پر ایمان لے آنے والے بن گئے تھے،خوارج کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت علی و فاطمہ ہیں،روافض کہتے ہیں کہ ان سے مراد سواء تین چار شخصوں کے باقی تمام صحابہ ہیں جیسے ابوبکر صدیق وغیرہم،دونوں فرقے جھوٹے ہیں اگر حضرت علی یا صدیق اکبر مرتد ہیں تو دنیا میں مسلمان کوئی نہیں رہ سکتا کہ ہم تک حضور کا دین پہنچانے والے تو وہ ہی حضرات ہیں۔۵؎یعنی یہ لوگ میرے ساتھی ہیں انہیں میرے پاس آنے دو،حضور انور کا یہ فرمان عالی بطور عتاب ہوگا جیسے رب تعالٰی دوزخی کافر سے فرمائے گا:"ذُقْ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْکَرِیۡمُ"اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور کو اپنے پرائے کی پہچان نہ ہوگی،یہاں تو بتارہے ہیں وہاں کیسے بھول جائیں گے،نیز قیامت میں کافر و مؤمن چہروں اور دوسری علامات سے پہچانے جائیں گے،رب فرماتاہے:"یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمْ"نیز دوسری روایت میں ہےاعرفہم ویعرفوننیمیں انہیں پہچانتا ہوں وہ مجھے جانتے ہیں لہذا اس فرمان عالی سے وہابی حضور کی بے علمی پر دلیل نہیں پکڑ سکتے۔۶؎یعنی یہ لوگ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد یا منکر زکوۃ ہوکر یا مسیلمہ کذاب کے امتی بن کر مرتد ہوگئے تھے۔فرشتوں کا یہ عرض کرنا ان مردودوں کو رسوا کرنے کے لیے ہوگا نہ کہ حضور انور کو مطلع کرنے کے لیے،حضور کو رب نے ہر غیب پر مطلع فرمادیا۔شعر
خدا مطلع ساخت برجملہ غیب علی کل شیئ خبیر آمدی
جو کہتے ہیں کہ یہ لوگ حضرت صدیق و فاروق ہوں گے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر صدیق وفاروق مرتد ہیں تو ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینے والے اہلِ بیت اطہار پر کیا فتویٰ ہوگا،امام حسین نے یزید فاسق کی بیعت نہ کی تو ان حضرات نے حضرت صدیق اکبر و فاروق کی کیوں کرلی۔۷؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان عالی اپنی بیزاری ظاہر فرمانے کے لیے ہے یعنی جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا، انہیں کفر سے بچاتا رہا،میری وفات کے بعد میری نگرانی ختم ہوگئی پھر تو جانے وہ جانے۔یہ عرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائی کفار کے متعلق کریں گے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسی طرح عرض کریں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5535