- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5541
باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5541
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَن النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ! فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ ألفٍ تِسْعَ مِئَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ،{وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ}، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ؟ قَالَ: "أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ"،ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ: "أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، فَقَالَ : "أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرْنَا، قَالَ: "مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ، أَوْ كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي سعيد الخدري عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يقول الله تعالى: يا آدم! فيقول: لبيك وسعديك والخير كله في يديك. قال: أخرج بعث النار. قال: وما بعث النار؟ قال: من كل ألف تسع مئة وتسعة وتسعين، فعنده يشيب الصغير،{وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولكن عذاب الله شديد}، قالوا: يا رسول الله! وأينا ذلك الواحد؟ قال: "أبشروا فإن منكم رجلا ومن يأجوج ومأجوج ألف"،ثم قال: "والذي نفسي بيده أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة" فكبرنا، فقال: "أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة" فكبرنا، فقال : "أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة" فكبرنا، قال: "ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض، أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ الله تعالٰی فرمائے گا اے آدم وہ عرض کریں گے حاضر ہوں خدمت گزار ہوں اور ساری بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ۱∞؎فرمائے گا آگ کا حصہ نکالو۲؎عرض کریں گے آگ کا حصہ کیا ہے فرمائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے۳؎تو اس وقت بچے بڈھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی۴؎اور تم لوگوں کو نشہ میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۵؎لیکن الله کا عذاب سخت ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله وہ ایک ہم میں سے کون ہوگا۶؎فرمایا خوش ہوجاؤ کہ تم میں سے ایک شخص اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۷؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ جنتیوں کے چوتھائی ہوگے تو ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں کے تہائی ہوؤگے ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں میں آدھے ہو گے۸؎ہم نے تکبیر کہی۹؎پھر فرمایا تم لوگوں میں نہیں مگر ایسے جیسے سفید بیل کی کھال میں ایک کالا بال یا جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۱۰؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ فرمان عالی قیامت کے دن ہوگا حساب سے پہلے،شاہی آستانہ کا ادب یہ ہے کہ نداء کے جواب میں صرفبلٰییالبیكنہ کہا جاوے بلکہ اپنی وفاداری،سلطان کی اور دربار کی خدمت گزاری کا بھی ذکر کیا جائے،بادشاہ کی تعریف بھی کی جاوے۔۲؎یعنی اپنی اولاد میں سے کفار کو جو آگ کا حصہ ہیں مؤمنین سے الگ کرو۔معلوم ہوا کہ یہ چھانٹ حضرت آدم علیہ السلام سے کرائی جاوے گی۔۳؎یہاں فی ہزار ایک جنتی فرمایا گیا باقی دوزخی،حضرت ابوہریرہ کی روایت فی سینکڑہ ایک جنتی تھا باقی دوزخی،اس فرق کی چند وجہ ہوسکتی ہیں: یا تووہاں یاجوج ماجوج کے سواء کے باقی انسانوں کا ذکر تھا اور یہاں مع یاجوج ماجوج کا ذکر ہے،یا وہاں صرف کفار کا ذکر تھا جو ہمیشہ کے دوزخی ہیں اور یہاں کفار اور مؤمن گنہگار سب شامل ہیں۔مؤمن گنہگار عارضی دوزخی ہیں یا وہاں صرف انسان کفار کا ذکر تھا یہاں جن و انس سارے کافروں کا ذکر ہے اور ممکن ہے کہ دونوں عدد کثرت و زیادتی بیان کرنے کے ہوں خاص تعداد مراد نہ ہو جیسے ہم کہتے ہیں جلسہ میں بیسیوں آدمی تھے۔۴؎یعنی اگر اس دن نومولود بچے اور عورتوں کے حمل ہوتے تو اس صدمہ سے بچے تو بڈھے ہوجاتے اور عورتیں حمل گرادیتیں اس فرمان کی دہشت سے۔۵؎یہاں حقیقت مراد ہے یعنی یہ سن کر لوگوں کے ہوش اڑ جاویں گے جیسے انہوں نے نشہ پیا ہے مگر یہ نشہ نہ ہوگا ہیبت الٰہی ہوگی۔اس سے بھی حضرات انبیاء کرام اور خاص اولیاء الله علیحدہ ہیں اور تمہیں اس دن نہ گھبراہٹ ہوگی نہ خوف،رب فرماتاہے:"لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"اور فرماتاہے:"لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"۔۶؎حضرات سامعین پر خوفِ الٰہی ایسا طاری ہوا کہ وہ سمجھے ہم مؤمنین یا ہم صحابہ میں سے ایک فی ہزار جنتی ہوگا تب یہ عرض کی۔۷؎یعنی یہ تعداد صرف تم میں سے پوری نہ کی جاوے گی بلکہ اولین و آخرین جس میں قوم یاجوج اور قوم ماجوج بھی داخل ہے انہیں ملا کر پوری کی جاوے گی،اس لحاظ سے واقعی مؤمن ایک ہے اور کافر نوسو ننانوے تم کو اس کا کیا خوف۔۸؎یعنی اولًا تم لوگ تمام اولین و آخرین جنتیوں میں چہارم ہوگے کہ تین حصوں میں سارے جنتی انسان از آدم تا عیسیٰ علیہ السلام اور چوتھائی تم،پھر تم نصف تہائی ہوجاؤ گے پھر آدھے۔دوسری روایات میں ہے کہ دو تہائی جنتی حضور کی امت ایک تہائی میں سارے لوگ مگر اس طرح کہ مسلمان جنت میں آگے پیچھے پہنچیں گے،جب سارے مسلمان وہاں داخل ہوجائیں گے تب حضور کی امت ۳/۲ اور باقی امتیں ۳ /۱۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوزخی انسان زیادہ ہیں جنتی تھوڑے"وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"لیکن جنت میں فرشتے اور حوروغلمان بھی ہوں گے،ان کا مجموعہ دوزخی جن وانسانوں سے بڑھ جاوے گاغلبت رحمتی علی غضبیاس طرح ہوگا۔۹؎اس سے معلوم ہوا کہ وعظ و تقریریں،اچھی خوشخبری،اعلٰی نکتہ سن کر نعرۂ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے جو آج کل بھی رائج ہے۔۱۰؎یعنی سارے مؤمنین یا میری امت کے سارے مؤمنین تمام کفار جن و انس کے مقابلہ ایسی نامعلوم نسبت رکھتے ہیں جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔خیال رہے کہ یہ نسبت سارے کفار کے لحاظ سے ہے مجموعہ کفار سے مسلمان واقعی تھوڑے ہیں ورنہ آج دنیا میں مسلمانوں کی مردم شماری ہر کافر قوم سے زیادہ ہے،آج مسلمان دنیا میں قریبًا ایک ارب ہیں ان کے بعد عیسائیوں کی تعداد ہے،پھر دوسری قوم کی لیکن اگر سب کافر ملائے جاویں اور قوم یا جوج ماجوج بھی ملالی جاوے تو اس مجموعہ میں مسلمان کالی گائے کی کھال میں ایک سفید بال ہی ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5541