Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5543

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّه جَناحَ بَعُوضَةٍ". وَقَالَ: "اقْرَؤُوا: {فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا} ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليأتي الرجل العظيم السمين يوم القيامة لا يزن عند الله جناح بعوضة". وقال: "اقرؤوا: {فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا} ". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک بڑا موٹا آدمی قیامت کے دن آوے گا ۱∞؎الله کے نزدیک مچھر کے پر برابر وزن نہ دے گا۲؎اور فرمایا کہ یہ تلاوت کرو کہ ہم قیامت کے دن ان کا وزن نہ رکھیں گے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عظیمسے مراد ہے دنیا میں درجہ کا بڑا،سمینسے مراد ہے جسم کا موٹا تازہ فربہ یعنی وہ دنیا میں سردار مالدار بھی تھا اور تندرست و توانا بھی مگر تھا منافق یا کافر۔۲؎یعنی وہ کافر ومنافق اور اس کے اعمال مچھر کے پر برابر بھی وزن نہ دیں گے کیونکہ ان میں ایمان نہیں،وزن ایمان و اخلاص کا ہوتا ہے۔۳؎اس آیت کریمہ کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ وزن بمعنی میزان ہے یعنی ہم قیامت میں کفار کے لیے میزان قائم ہی نہیں کریں گے کیونکہ وہاں وزن باٹ سے نہ ہوگا بلکہ نیکیوں کا بدیوں سے ہوگا،کافر کے پاس نیکیاں ہی نہیں پھر وزن کیسا۔دوسرے یہ کہ وزن بمعنی بوجھ ہے اورمعنی یہ ہیں کہ کفار کی نیکیوں میں ہم وزن نہیں رکھیں گے کہ ان کی نیکیاں صدقات خیرات وغیرہ تولے جائیں گے مگر بہت ہی ہلکے ہوں گے۔یہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے:"وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوٰزِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ"جس سے معلوم ہوا کہ کفار کی نیکیاں تولی جائیں گی مگر نہ اُٹھیں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5543