Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5545

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ". قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من أحد يموت إلا ندم". قالوا: وما ندامته يا رسول الله؟ قال: "إن كان محسنا ندم أن لا يكون ازداد، وإن كان مسيئا ندم أن لا يكون نزع". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی نہیں جو مرے مگر شرمندہ ہوگا ۱∞؎عرض کیا یارسول الله اس کی شرمندگی کیا ہوگی،فرمایا اگر نیک کار ہوگا تو شرمندہ ہوگا کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہ کیں۲؎اور گنہگار ہوا تو شرمندہ ہوگا کہ وہ کیوں نہ باز آیا۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎لہذا ہرشخص کو چاہیے کہ موت سے پہلے زندگی کو،بیماری سے پہلے تندرستی کو،مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانے جتنا موقع ملے کر گزرے؎اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
اس دنیا کا ایک ہی پھیرا مڑ نہیں آنا دو جی وار جو کرنا ہے کرلے یار ہوجا سمجھدار
۲
؎حتی کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری زندگی سجدہ سجود میں گزار دے وہ یہ کہے گا کہ میری عمر اور زیادہ کیوں نہ ہوئی کہ میں سجدے سجود اور زیادہ کرلیتا اور آج اس سے بھی اونچا درجہ پاتا۔اس فرمان عالی سے بھی حضرات انبیاء کرام علیحدہ ہیں،انہیں وہاں ندامت کیسی وہ تو عظمت کے انتہائی درجہ میں ہوں گے۔۳؎اس فرمان میں کفار اور گنہگار سب داخل ہیں۔کفار کو شرمندگی ہوگی کہ ہم مسلمان کیوں نہ بنے،گنہگاروں کو شرمندگی ہوگی ہم نیک کار پرہیزگار کیوں نہ بنے گناہوں سے باز کیوں نہ آئے مگر کفار کو اس وقت کی یہ ندامت کام نہ دے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5545