Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5539

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا ويلجمهم حتى يبلغ آذانهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر گز چلا جاوے گا اور ان کی لگام بن جاوے گا حتی کہ ان کے کانوں تک پہنچ جاوے گا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حال ان لوگوں کا ہوگا جنہیں عرش اعظم کا سایہ میسر نہ ہوگا،سایہ والے لوگ بڑے آرام سے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوں گے،وہاں پسینہ کیسا عادل بادشاہ،جوان صالح،اکیلے میں اپنے گناہ یاد کرکے رونے والا عرش کے سایہ میں ہوں گے،پھر اولیاء انبیاء کا کیا پوچھنا دنیا ان کے سایہ میں ہوگی وہ خود سایہ ہوں گے۔شعر
امی و دقیقہ داں عالم بے سایہ و سائبان عالم
یہ پسینہ سورج اور دوزخ کی گرمی،انتہائی پریشانی وفکر اور ندامت کی وجہ سے ہوگا۔
(مرقات)اور مطابق اپنے اعمال کے ہوگا زیادہ گناہ کیے تو پسینہ زیادہ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر ایک کا پسینہ الگ ہوگا دوسروں کے پسینہ سے مل کر دریا نہ بنے گا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مچھلی سے پانی میں طاق بن گیا،بعض نے فرمایا کہ تمام پسینوں کا دریا بن جاوے گا مگر یہ دریا کسی کے ٹخنوں تک،کسی کے منہ تک جیسے ایک ہی قبر میں مؤمن مردہ جنت میں ہے،کافر مردہ دوزخ میں،ایک چار پائی پر دو آدمی سورہے ہیں ایک اچھی خواب سے خوش ہے دوسرا بری خواب سے پریشان۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5539