Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5540

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا"، وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن المقداد قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "تدنى الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق، فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حقويه، ومنهم من يلجمهم العرق إلجاما"، وأشار رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بيده إلى فيه. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقداد سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کردیا جاوے گا حتی کہ ان سے میل کی مقدار رہ جاوے گا ۱∞؎تو لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں ہوں گے۲؎بعض وہ ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا،بعض وہ جن کے گھٹنوں تک ہوگا اور بعض وہ جن کی کمر تک ہوگا اور ان میں بعض وہ ہوں گے کہ پسینہ ان کی لگام بن جاوے گا اور رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ شریف سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ میل سے مراد راستہ کا میل ہے کوس کا تہائی حصہ،آج کل ہمارے ہاں آٹھ فرلانگ کا میل ہوتا ہے،عرب میں پانچ فرلانگ کا جسے کیلو کہتے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں میل سے مراد سرمہ کی سلائی ہے بہرحال ہوگا نہایت ہی قریب۔۲؎اعمال سے مراد گناہ ہیں یعنی بداعمال خواہ کفر ہو یا دوسرے گناہ اس پسینہ کی تحقیق ابھی ابھی ہوچکی۔۳؎اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اس پسینہ میں ڈوبا نہ ہوگا،بعض قریب ڈوبنے کے ہوں گے،اس اختلاف حال کی وجہ ابھی کچھ پہلے عرض کردی گئی۔خیال رہے کہفممنہ کو کہتے ہیں اوروجہچہرہ کو،فیبنا ہےفمسے بمعنی منہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5540