Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5538

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا ربِّ إِنَّك وَعَدْتَنِي أَلَّا تُخْزِيَنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الأَبْعَدِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ"رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك: لا تعصني؟ فيقول له أبوه: فاليوم لا أعصيك. فيقول إبراهيم: يا رب إنك وعدتني ألا تخزيني يوم يبعثون فأي خزي أخزى من أبي الأبعد، فيقول الله تعالى: إني حرمت الجنة على الكافرين، ثم يقال لإبراهيم: ما تحت رجليك؟ فينظر فإذا هو بذيخ متلطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار"رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر سے قیامت کے دن کہیں گے آزر کے منہ پر سیاہی اور مٹیلا رنگ ہوگا ۱∞؎اس سے ابراہیم فرمائیں گے کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر ان کا باپ کہے گا کہ اب میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۲؎جناب ابراہیم کہیں گے اے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جس دن لوگ اٹھائیں جائیں گے تو مجھے رسوا نہ کرے گا تو میری ہلاکت والے باپ سے بڑھ کر کون سی رسوائی بڑی ہے۳؎الله تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے کفار پر جنت حرام کردی ہے۴؎پھر حضرت ابراہیم سے کہا جاوے گا کہ تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے وہ دیکھیں گے۵؎کہ وہ ایک لتھڑے ہوئے بھیڑیئے پر ہے۶؎پھر آزر کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے جائیں گے اسے آگ میں ڈال دیا جاوے گا۷؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تحقیق یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا ہے،قرآن کریم یا حدیث شریف میں اسے باپ کہنا مجازًا ہے،ان کے والد کا نام تارخ ہے وہ مؤمن موحد تھے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے آباؤ اجداد از آدم علیہ السلام تا حضرت عبد الله سارے ہی مؤمن موحد ہیں کوئی مشرک کافر زانی نہیں،یہ نسب پاک ان دونوں عیبوں سے منزہ ہے۔قیامت کے دن کفار کے چہرے کالے ہوں گے،مؤمنوں کے منہ اجیالے،یہ چہروں کے رنگ دلوں کے رنگ کے مطابق ہوں گے،حضرت بلال کا حسن وہاں دیکھناان شاءاﷲ۔یہاں باپ کہہ کر آزر فرما دیا گیا تاکہ کوئی حقیقی والد نہ سمجھ لے چچا ہی سمجھے۔(اشعہ)۲؎آزر یہ الفاظ بطور توبہ کہے گا کہ میں نے گزشتہ زمانہ میں غلطی کی اب ہر طرح تمہاری اطاعت کروں گا مجھے بچالو مگر توبہ کی جگہ دنیا ہے اس لیے اب یہ سب کچھ بے کار ہوگا۔۳؎یعنی آزر کا دوزخ میں جانا میرے لیے بدنامی کا باعث ہے تو اسے بخش دے۔ابعدفرماکر یہ بتایا کہ یہ تیری رحمت سے یا مجھ سے بہت دور رہا،متقی مؤمن الله سے نبی سے قریب ہے"اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَاور گنہگار مؤمن ان سے کچھ دور ہے مگر کافر ان سے بہت ہی دور ہے کہ عملًا بھی دور ہے عقیدۃً بھی دور،یا یہ مطلب ہے کہ یہ میری محبت سے دور ہے مجھے اس سے محبت نہیں بلکہ اپنی بدنامی کا خوف ہے،قیامت میں کسی مسلمان کو کسی کافر قرابتدار سے مطلقًا محبت نہ ہوگی۔۴؎یعنی اے میرے پیارے خلیل اس کے دوزخی ہونے میں آپ کی رسوائی قطعًا نہیں،اگر یہ مؤمن متقی ہوتا پھر دوزخی ہوتا تو آپ کی بدنامی ہوتی کہ نبی کی خبر غلط نکلی انہوں نے متقی مؤمنوں سے جنت کا وعدہ کیا تھا غلط ہوا یہ تو اپنے کفر کی وجہ سے سے دوزخ میں جارہا ہے نہ کہ آپ کا عزیز قریبی ہونے کی وجہ سے،یہ ہے رب تعالٰی کا کرم اپنے خلیل پر۔۵؎معلوم ہوا کہ حضرت خلیل کی نگاہ بچاکر آزر کو دوزخ میں پھینکا جائے گا آپ کے سامنے نہیں،اس میں بھی جناب خلیل الله کا احترام ہے،یا یہ مطلب ہے کہ حضرت خلیل خود آزر کو اپنے پاؤں کے نیچے دیکھیں گے یہ ہی ظاہر ہے۔۶؎ذیخکا ترجمہ ہے بھیڑیا،متلطحبمعنی لتھڑا ہوا گارے کیچڑ وغیرہ میں یعنی اب حضرت خلیل دیکھیں گے کہ آزر بجائے شکل انسانی کے بھیڑیئے کی شکل میں ہے ڈراؤنا ہیبت ناک اور وہ بھی کیچڑ میں لتھڑا ہوا گھناؤنا،اس حالت کو دیکھ کر آپ کے دل میں سخت نفرت پیدا ہوگی۔خیال رہے کہ وہاں شکلوں پر دلوں کا حال نمودار ہوگا،چونکہ آزر دنیا میں حضرت ابراہیم کے لیے بھیڑیا موذی تھا اور اس کا دل کفر میں لتھڑا ہوا تھا اس لیے اس کی شکل یہ ہوگی۔۷؎خیال رہے کہ اس واقعہ میں نہ تو حضرت خلیل نے آزر کی شفاعت فرمائی اور نہ رب تعالٰی نے آپ کی شفاعت روکی بلکہ آپ نے اپنی عزت کا سوال فرمایا،رب تعالٰی نے آپ کو مطمئن فرماکر آپ کی عزت کی حفاظت فرماکر آزر کو اس کے اصلی روپ میں دکھا کر حضرت خلیل الله کو اس سے متنفر فرماکر اسے دوزخ میں ڈالا۔لہذا حدیث شریف پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ نبی نے کافر کی شفاعت کیوں فرمائی، نہ یہ کہ نبی کی شفاعت منظور کیوں نہ ہوئی۔آپ نے اس کی شفاعت یا دعا کا ایک لفظ بھی یہاں نہ فرمایا اپنے متعلق عرض کیا جیسے حضرت نوح نے کنعان بیٹے کے متعلق فرمایا تھا"اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ"یہ شفاعت نہ تھی بلکہ ایک مسئلہ کا جواب پوچھنا تھا کہ اگر کفار مجھ پر یہ سوال کریں تو میں کیا جواب دوں اسی لیے کنعان کے ڈوبنے کے چھ ماہ بعد یہ عرض کیا جب کشتی جودی پہاڑ پرٹھہرگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5538