- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5538
باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5538
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا ربِّ إِنَّك وَعَدْتَنِي أَلَّا تُخْزِيَنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الأَبْعَدِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ"رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك: لا تعصني؟ فيقول له أبوه: فاليوم لا أعصيك. فيقول إبراهيم: يا رب إنك وعدتني ألا تخزيني يوم يبعثون فأي خزي أخزى من أبي الأبعد، فيقول الله تعالى: إني حرمت الجنة على الكافرين، ثم يقال لإبراهيم: ما تحت رجليك؟ فينظر فإذا هو بذيخ متلطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار"رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر سے قیامت کے دن کہیں گے آزر کے منہ پر سیاہی اور مٹیلا رنگ ہوگا ۱∞؎اس سے ابراہیم فرمائیں گے کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر ان کا باپ کہے گا کہ اب میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۲؎جناب ابراہیم کہیں گے اے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جس دن لوگ اٹھائیں جائیں گے تو مجھے رسوا نہ کرے گا تو میری ہلاکت والے باپ سے بڑھ کر کون سی رسوائی بڑی ہے۳؎الله تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے کفار پر جنت حرام کردی ہے۴؎پھر حضرت ابراہیم سے کہا جاوے گا کہ تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے وہ دیکھیں گے۵؎کہ وہ ایک لتھڑے ہوئے بھیڑیئے پر ہے۶؎پھر آزر کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے جائیں گے اسے آگ میں ڈال دیا جاوے گا۷؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎تحقیق یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا ہے،قرآن کریم یا حدیث شریف میں اسے باپ کہنا مجازًا ہے،ان کے والد کا نام تارخ ہے وہ مؤمن موحد تھے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے آباؤ اجداد از آدم علیہ السلام تا حضرت عبد الله سارے ہی مؤمن موحد ہیں کوئی مشرک کافر زانی نہیں،یہ نسب پاک ان دونوں عیبوں سے منزہ ہے۔قیامت کے دن کفار کے چہرے کالے ہوں گے،مؤمنوں کے منہ اجیالے،یہ چہروں کے رنگ دلوں کے رنگ کے مطابق ہوں گے،حضرت بلال کا حسن وہاں دیکھناان شاءاﷲ۔یہاں باپ کہہ کر آزر فرما دیا گیا تاکہ کوئی حقیقی والد نہ سمجھ لے چچا ہی سمجھے۔(اشعہ)۲؎آزر یہ الفاظ بطور توبہ کہے گا کہ میں نے گزشتہ زمانہ میں غلطی کی اب ہر طرح تمہاری اطاعت کروں گا مجھے بچالو مگر توبہ کی جگہ دنیا ہے اس لیے اب یہ سب کچھ بے کار ہوگا۔۳؎یعنی آزر کا دوزخ میں جانا میرے لیے بدنامی کا باعث ہے تو اسے بخش دے۔ابعدفرماکر یہ بتایا کہ یہ تیری رحمت سے یا مجھ سے بہت دور رہا،متقی مؤمن الله سے نبی سے قریب ہے"اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ"۔اور گنہگار مؤمن ان سے کچھ دور ہے مگر کافر ان سے بہت ہی دور ہے کہ عملًا بھی دور ہے عقیدۃً بھی دور،یا یہ مطلب ہے کہ یہ میری محبت سے دور ہے مجھے اس سے محبت نہیں بلکہ اپنی بدنامی کا خوف ہے،قیامت میں کسی مسلمان کو کسی کافر قرابتدار سے مطلقًا محبت نہ ہوگی۔۴؎یعنی اے میرے پیارے خلیل اس کے دوزخی ہونے میں آپ کی رسوائی قطعًا نہیں،اگر یہ مؤمن متقی ہوتا پھر دوزخی ہوتا تو آپ کی بدنامی ہوتی کہ نبی کی خبر غلط نکلی انہوں نے متقی مؤمنوں سے جنت کا وعدہ کیا تھا غلط ہوا یہ تو اپنے کفر کی وجہ سے سے دوزخ میں جارہا ہے نہ کہ آپ کا عزیز قریبی ہونے کی وجہ سے،یہ ہے رب تعالٰی کا کرم اپنے خلیل پر۔۵؎معلوم ہوا کہ حضرت خلیل کی نگاہ بچاکر آزر کو دوزخ میں پھینکا جائے گا آپ کے سامنے نہیں،اس میں بھی جناب خلیل الله کا احترام ہے،یا یہ مطلب ہے کہ حضرت خلیل خود آزر کو اپنے پاؤں کے نیچے دیکھیں گے یہ ہی ظاہر ہے۔۶؎ذیخکا ترجمہ ہے بھیڑیا،متلطحبمعنی لتھڑا ہوا گارے کیچڑ وغیرہ میں یعنی اب حضرت خلیل دیکھیں گے کہ آزر بجائے شکل انسانی کے بھیڑیئے کی شکل میں ہے ڈراؤنا ہیبت ناک اور وہ بھی کیچڑ میں لتھڑا ہوا گھناؤنا،اس حالت کو دیکھ کر آپ کے دل میں سخت نفرت پیدا ہوگی۔خیال رہے کہ وہاں شکلوں پر دلوں کا حال نمودار ہوگا،چونکہ آزر دنیا میں حضرت ابراہیم کے لیے بھیڑیا موذی تھا اور اس کا دل کفر میں لتھڑا ہوا تھا اس لیے اس کی شکل یہ ہوگی۔۷؎خیال رہے کہ اس واقعہ میں نہ تو حضرت خلیل نے آزر کی شفاعت فرمائی اور نہ رب تعالٰی نے آپ کی شفاعت روکی بلکہ آپ نے اپنی عزت کا سوال فرمایا،رب تعالٰی نے آپ کو مطمئن فرماکر آپ کی عزت کی حفاظت فرماکر آزر کو اس کے اصلی روپ میں دکھا کر حضرت خلیل الله کو اس سے متنفر فرماکر اسے دوزخ میں ڈالا۔لہذا حدیث شریف پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ نبی نے کافر کی شفاعت کیوں فرمائی، نہ یہ کہ نبی کی شفاعت منظور کیوں نہ ہوئی۔آپ نے اس کی شفاعت یا دعا کا ایک لفظ بھی یہاں نہ فرمایا اپنے متعلق عرض کیا جیسے حضرت نوح نے کنعان بیٹے کے متعلق فرمایا تھا"اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ"یہ شفاعت نہ تھی بلکہ ایک مسئلہ کا جواب پوچھنا تھا کہ اگر کفار مجھ پر یہ سوال کریں تو میں کیا جواب دوں اسی لیے کنعان کے ڈوبنے کے چھ ماہ بعد یہ عرض کیا جب کشتی جودی پہاڑ پرٹھہرگئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5538