Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2715

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجْرَةَ وَلٰكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللّٰهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهٗ لَمْ يحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِيوَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهٗ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهٗ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهٗ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلٰى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهٗ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة: «لا هجرة ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا» . وقال يوم فتح مكة: «إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبليولم يحل لي إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها ولا يختلى خلاها» . فقال العباس: يا رسول الله إلا الإذخر فإنه لقينهم ولبيوتهم ؟ فقال: «إلا الإذخر»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہ رہی ۱؎لیکن جہاد اور نیت ہے ۲؎اور جب جہاد کے لیے بلائے جاؤ تو نکل پڑو۳؎اور فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اللّٰه نے اس دن ہی حرم بنا دیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک اللّٰه کے حرم فرمانے سے حرام ہے ۴؎اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں جنگ جائز نہ ہوئی ۵؎اور مجھے بھی ایک گھڑی دن کی حلال ہوئی چنانچہ اب وہ تاقیامت اللّٰه کے حرام کئے سے حرام ہے کہ نہ یہاں کے کانٹے توڑے جائیں ۶؎اور نہ یہاں کاشکار بھڑکایا جائے ۷؎اور نہ یہاں کی گری چیز اٹھائی جائے ہاں جو اس کا اعلان کرے وہ اٹھائے ۸؎اور نہ یہاں کی خشک گھاس کاٹی جائے ۹؎حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اللّٰه اذخر کے سواء کہ وہ تو ہاروں اور یہاں کے گھروں میں کام آتی ہے ۱۰؎فرمایا سوائے اذخر کے ۱۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طر ف ہجرت فرما جانے کے بعد مکہ کے مسلمانوں پر ہجرت فرض تھی اور مکہ معظمہ میں بلا عذر رہنا حرام تھا کہ وہ جگہ دارالحرب ہوگئی تھی فتح مکہ سے وہ جگہ دارالاسلام بن گئی اوراب اس ہجرت کی فرضیت ختم ہو گئی یہاں یہ ہی ارشاد ہے یعنی مکہ معظمہ سے ہجرت کرجانا اب فرض نہ رہا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہجرت قیامت تک ہے وہاں دوسرے دار الحرب سے ہجرتیں مراد ہیں۔ہوسکتا ہے کہ خبر غیبی ہے کہ اب مکہ معظمہ تا قیامت کبھی دارالحرب نہ بنے گا اور نہ یہاں سے ہجرت فرض ہوگی،الحمداللّٰہایسا ہی ہوا۔
۲
؎یعنی اب جسے جہاد میسر ہو وہ جہاد کرے اور جو جہاد نہ پائے وہ نیت کرے کہ جب مجھے خدا موقع دے گا جہادکروں گا کہ نیت جہادبھی ثواب ہے۔
۳
؎اگر جہاد اس وقت فرض کفایہ ہو تو بقدر ضرورت لوگ نکلیں اور اگر فرض عین ہوگیا ہو تو ہر مرد و زن نکلے یہ کلمہ دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
۴
؎یعنی اس شہر پاک کا حرم شریف ہونا صرف اسلام میں نہیں ہے بلکہ بڑا پرانا مسئلہ ہے،ہر دین میں یہ جگہ محترم تھی۔وہ جو باب حرم مدینہ میں آرہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا وہاں یہ مطلب ہے کہ اس کے حرم ہونے کا اعلان ابراہیم علیہ السلام نے کیا کیونکہ طوفان نوحی میں جب بیت المعمور آسمان پر اٹھالیا تو لوگ یہاں کی حرمت وغیرہ بھول گئے حضرت خلیل نے پھر اس کا اعلان فرمایا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(اشعہ)الی یوم القیامۃفرما کر بتایا کہ یہ حرمت کبھی منسوخ نہ ہوگی کہ جیسے ازلی ہے ویسے ہی ابدی بھی ہے۔
۵
؎اس فرمان عالی میں اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو فتح مکہ کے دن حضرت خالد ابن ولید سے صادر ہوا کہ ستر۷۰ کفار آپ کے ہاتھوں قتل ہوگئے اس قتل پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کو عتاب بھی نہ فرمایا اس کی وجہ یہاں بیان ہوئی کہ اس دن ہمارے لیے ایک ساعت کے قتال بھی حلال ہوگیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ میں داخلہ بھی جائز ہوا۔چنانچہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اس وقت سیاہ عمامہ باندھے ہوئے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے یعنی بغیر احرام ورنہ سر مبارک کھلا ہوتا۔خیال رہے کہ فتح مکہ مذہب احناف میں غلبہ سے ہوئی اور امام شا فعی کے ہاں صلح سے اسی لیے ان کے ہاں مکہ معظمہ کے مکانات و زمین کی بیع درست اور کرایہ جائز ہے کہ تمام مقامات کفار مکہ کے اپنے رہے جیساکہ صلح میں ہوتا ہے،ہمارے امام صاحب کے ہاں وہاں کی زمین وغیرہ کی بیع و کرایہ درست نہیں کیونکہ ان تمام کے حضور انور مالک ہوگئے تھے کیونکہ فاتح بادشاہ مفتوح علاقہ کا مالک ہوجاتا ہے،حضور انور نے مالک ہوکر وقف فرمادیا،وقف کی نہ بیع ہوتی ہے نہ اجارہ،قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے یہ حدیث ان کی دلیل ہے کہ مجھے اس دن قتال درست ہوگیا،صلح میں قتال کیسا،نیز رب تعالٰی نے اسے فتح فرمادیا:"اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ"ا ور فتح جنگ سے ہی ہوا کرتی ہے۔(اشعہ مع زیادت)
۶
؎یعنی حرم کے خود رو درخت تو کیا کانٹے توڑنا بھی جائز نہیں،اذخروکمائتکے سوا وہاں کی سبز گھاس کاٹنا یا اس پر جانور چرانا بھی ہمارے ہاں ممنوع ہے،امام ابو یوسف و شوافع و مالک کے ہاں چرانا درست ہے،امام احمد ہمارے ساتھ ہیں مذہب احناف قوی ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے حتی کہ ایذاء دینے والا کانٹا بھی ہمارے ہاں نہ کاٹا جائے،خلافًا للشافعی۔
۷
؎یعنی حرم کا شکار مارناتو کیا اسے اس کی جگہ سے ہٹانا بھڑکانا بھی منع ہے اور اگر بھڑکانے سے وہ ضائع ہوجائے تو اس کی قیمت واجب ہوگی۔(اشعہ)
۸
؎اس کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ دیگر مقامات کی ملی ہوئی چیز کا کچھ عرصہ تک اعلان کیا جاتا ہے پھر مالک نہ ملنے پر یا خیرات کردی جاتی ہے یا پانے والا اگر فقیر ہو تو خود مالک ہوجاتا ہے مگر حرم شریف کی ملی ہوئی چیز کا اعلان ہی کرنا ہوگاپانے والا اگر فقیر ہو تو خود مالک ہوجاتا ہے ،مگر حرم شریف کی ملی ہوئی چیز کا اعلان ہی کرنا ہوگا پانے والا کبھی اسے خیرات نہ کرے نہ خود مالک ہو ، یہی مذہب شافعی ہے ، بعض احناف بھی اس طرف مائل ہیں ، جیساکہ لمعات وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے ، مگر مذہب امام ابو حنیفہ یہ ہے کہ حرم کی گمی چیز بھی دیگر مقامات کی طرح ہے ،مگر یہاں اعلان زیادہ کیا جائیگا،ان کی دلیل وہ حدیثیں ہیں جو لقطہ کے بیان میں آئیں گی۔اس فرمان عالی کا منشاء یہ ہے کہ صرف زمانہ حج میں اعلان نہ کرے بلکہ بعد میں بھی اعلان کرتا رہے۔
۹
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ خلا ترگھاس کو کہتے ہیں اور حشیش خشک کو اور بعض کے ہاں اس کے برعکس ہے۔مقصد یہ ہے کہ حرم شریف کی نہ تر گھاس کاٹی جائے نہ خشک کیونکہ خشک گھاس کانٹے کے حکم میں ہے۔
۱۰
؎اذخرایک لمبی گھاس ہوتی ہے جو عرب میں بجائے لکڑی اور کوئلے کے بھٹیوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے اور گھر و قبر کی چھتوں میں بھی جیسے ہمارے ہاں گاؤں میں سینٹے و سرکرے۔
۱۱
؎اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی نے احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ اپنے اختیار سے آپ باذن پروردگار حرام و حلال کرسکتے ہیں،دیکھو سرکار عالی نے حضرت عباس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اچھا رب کی بارگاہ میں دعا کریں گے یا جبریل امین سے پوچھیں گے بلکہ خود ہی فرمادیاالّا الاذخر،اگر حضرت عباس حضور سے یہ نہ کہلوالیتے تو اذخر بھی حرام ہی رہتی۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2715