- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2715
باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2715
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجْرَةَ وَلٰكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللّٰهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهٗ لَمْ يحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِيوَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللّٰهِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهٗ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهٗ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهٗ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلٰى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهٗ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة: «لا هجرة ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا» . وقال يوم فتح مكة: «إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبليولم يحل لي إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها ولا يختلى خلاها» . فقال العباس: يا رسول الله إلا الإذخر فإنه لقينهم ولبيوتهم ؟ فقال: «إلا الإذخر»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت نہ رہی ۱؎لیکن جہاد اور نیت ہے ۲؎اور جب جہاد کے لیے بلائے جاؤ تو نکل پڑو۳؎اور فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اللّٰه نے اس دن ہی حرم بنا دیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک اللّٰه کے حرم فرمانے سے حرام ہے ۴؎اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں جنگ جائز نہ ہوئی ۵؎اور مجھے بھی ایک گھڑی دن کی حلال ہوئی چنانچہ اب وہ تاقیامت اللّٰه کے حرام کئے سے حرام ہے کہ نہ یہاں کے کانٹے توڑے جائیں ۶؎اور نہ یہاں کاشکار بھڑکایا جائے ۷؎اور نہ یہاں کی گری چیز اٹھائی جائے ہاں جو اس کا اعلان کرے وہ اٹھائے ۸؎اور نہ یہاں کی خشک گھاس کاٹی جائے ۹؎حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اللّٰه اذخر کے سواء کہ وہ تو ہاروں اور یہاں کے گھروں میں کام آتی ہے ۱۰؎فرمایا سوائے اذخر کے ۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طر ف ہجرت فرما جانے کے بعد مکہ کے مسلمانوں پر ہجرت فرض تھی اور مکہ معظمہ میں بلا عذر رہنا حرام تھا کہ وہ جگہ دارالحرب ہوگئی تھی فتح مکہ سے وہ جگہ دارالاسلام بن گئی اوراب اس ہجرت کی فرضیت ختم ہو گئی یہاں یہ ہی ارشاد ہے یعنی مکہ معظمہ سے ہجرت کرجانا اب فرض نہ رہا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہجرت قیامت تک ہے وہاں دوسرے دار الحرب سے ہجرتیں مراد ہیں۔ہوسکتا ہے کہ خبر غیبی ہے کہ اب مکہ معظمہ تا قیامت کبھی دارالحرب نہ بنے گا اور نہ یہاں سے ہجرت فرض ہوگی،الحمداللّٰہایسا ہی ہوا۔
۲؎یعنی اب جسے جہاد میسر ہو وہ جہاد کرے اور جو جہاد نہ پائے وہ نیت کرے کہ جب مجھے خدا موقع دے گا جہادکروں گا کہ نیت جہادبھی ثواب ہے۔
۳؎اگر جہاد اس وقت فرض کفایہ ہو تو بقدر ضرورت لوگ نکلیں اور اگر فرض عین ہوگیا ہو تو ہر مرد و زن نکلے یہ کلمہ دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
۴؎یعنی اس شہر پاک کا حرم شریف ہونا صرف اسلام میں نہیں ہے بلکہ بڑا پرانا مسئلہ ہے،ہر دین میں یہ جگہ محترم تھی۔وہ جو باب حرم مدینہ میں آرہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا وہاں یہ مطلب ہے کہ اس کے حرم ہونے کا اعلان ابراہیم علیہ السلام نے کیا کیونکہ طوفان نوحی میں جب بیت المعمور آسمان پر اٹھالیا تو لوگ یہاں کی حرمت وغیرہ بھول گئے حضرت خلیل نے پھر اس کا اعلان فرمایا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(اشعہ)الی یوم القیامۃفرما کر بتایا کہ یہ حرمت کبھی منسوخ نہ ہوگی کہ جیسے ازلی ہے ویسے ہی ابدی بھی ہے۔
۵؎اس فرمان عالی میں اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو فتح مکہ کے دن حضرت خالد ابن ولید سے صادر ہوا کہ ستر۷۰ کفار آپ کے ہاتھوں قتل ہوگئے اس قتل پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کو عتاب بھی نہ فرمایا اس کی وجہ یہاں بیان ہوئی کہ اس دن ہمارے لیے ایک ساعت کے قتال بھی حلال ہوگیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ میں داخلہ بھی جائز ہوا۔چنانچہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اس وقت سیاہ عمامہ باندھے ہوئے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے یعنی بغیر احرام ورنہ سر مبارک کھلا ہوتا۔خیال رہے کہ فتح مکہ مذہب احناف میں غلبہ سے ہوئی اور امام شا فعی کے ہاں صلح سے اسی لیے ان کے ہاں مکہ معظمہ کے مکانات و زمین کی بیع درست اور کرایہ جائز ہے کہ تمام مقامات کفار مکہ کے اپنے رہے جیساکہ صلح میں ہوتا ہے،ہمارے امام صاحب کے ہاں وہاں کی زمین وغیرہ کی بیع و کرایہ درست نہیں کیونکہ ان تمام کے حضور انور مالک ہوگئے تھے کیونکہ فاتح بادشاہ مفتوح علاقہ کا مالک ہوجاتا ہے،حضور انور نے مالک ہوکر وقف فرمادیا،وقف کی نہ بیع ہوتی ہے نہ اجارہ،قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے یہ حدیث ان کی دلیل ہے کہ مجھے اس دن قتال درست ہوگیا،صلح میں قتال کیسا،نیز رب تعالٰی نے اسے فتح فرمادیا:"اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ"ا ور فتح جنگ سے ہی ہوا کرتی ہے۔(اشعہ مع زیادت)
۶؎یعنی حرم کے خود رو درخت تو کیا کانٹے توڑنا بھی جائز نہیں،اذخروکمائتکے سوا وہاں کی سبز گھاس کاٹنا یا اس پر جانور چرانا بھی ہمارے ہاں ممنوع ہے،امام ابو یوسف و شوافع و مالک کے ہاں چرانا درست ہے،امام احمد ہمارے ساتھ ہیں مذہب احناف قوی ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے حتی کہ ایذاء دینے والا کانٹا بھی ہمارے ہاں نہ کاٹا جائے،خلافًا للشافعی۔
۷؎یعنی حرم کا شکار مارناتو کیا اسے اس کی جگہ سے ہٹانا بھڑکانا بھی منع ہے اور اگر بھڑکانے سے وہ ضائع ہوجائے تو اس کی قیمت واجب ہوگی۔(اشعہ)
۸؎اس کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ دیگر مقامات کی ملی ہوئی چیز کا کچھ عرصہ تک اعلان کیا جاتا ہے پھر مالک نہ ملنے پر یا خیرات کردی جاتی ہے یا پانے والا اگر فقیر ہو تو خود مالک ہوجاتا ہے مگر حرم شریف کی ملی ہوئی چیز کا اعلان ہی کرنا ہوگاپانے والا اگر فقیر ہو تو خود مالک ہوجاتا ہے ،مگر حرم شریف کی ملی ہوئی چیز کا اعلان ہی کرنا ہوگا پانے والا کبھی اسے خیرات نہ کرے نہ خود مالک ہو ، یہی مذہب شافعی ہے ، بعض احناف بھی اس طرف مائل ہیں ، جیساکہ لمعات وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے ، مگر مذہب امام ابو حنیفہ یہ ہے کہ حرم کی گمی چیز بھی دیگر مقامات کی طرح ہے ،مگر یہاں اعلان زیادہ کیا جائیگا،ان کی دلیل وہ حدیثیں ہیں جو لقطہ کے بیان میں آئیں گی۔اس فرمان عالی کا منشاء یہ ہے کہ صرف زمانہ حج میں اعلان نہ کرے بلکہ بعد میں بھی اعلان کرتا رہے۔
۹؎بعض شارحین نے فرمایا کہ خلا ترگھاس کو کہتے ہیں اور حشیش خشک کو اور بعض کے ہاں اس کے برعکس ہے۔مقصد یہ ہے کہ حرم شریف کی نہ تر گھاس کاٹی جائے نہ خشک کیونکہ خشک گھاس کانٹے کے حکم میں ہے۔
۱۰؎اذخرایک لمبی گھاس ہوتی ہے جو عرب میں بجائے لکڑی اور کوئلے کے بھٹیوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے اور گھر و قبر کی چھتوں میں بھی جیسے ہمارے ہاں گاؤں میں سینٹے و سرکرے۔
۱۱؎اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی نے احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ اپنے اختیار سے آپ باذن پروردگار حرام و حلال کرسکتے ہیں،دیکھو سرکار عالی نے حضرت عباس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اچھا رب کی بارگاہ میں دعا کریں گے یا جبریل امین سے پوچھیں گے بلکہ خود ہی فرمادیاالّا الاذخر،اگر حضرت عباس حضور سے یہ نہ کہلوالیتے تو اذخر بھی حرام ہی رہتی۔(اشعہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2715