Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2716

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتهَا إِلَّا مُنْشِدٌ".

وفي رواية لأبي هريرة: "لا يعضد شجرها، ولا يلتقط ساقطتها إلا منشد".

حدیث ترجمہ

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور سوا تلاش کرنے والے کے وہاں کی گری چیز کوئی نہ اٹھائے

شرح حدیث

اکثر شوافع کے ہاں حرمین شریفین کی مٹی یا پتھر باہر لے جانا بھی منع ہے اور باہر کی مٹی وہاں پہنچانا خلاف اولیٰ،ہاں آبِ زمزم تبرک کے لیے اور مدینہ پاک کی کھجوریں باہر لے جانا سنت ہے۔چنانچہ خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سہیل ابن عمرو سے حدیبیہ کے سال آب زمزم دو مشکیزے مدینہ طیبہ منگوایا اور حج کے موقعہ پر خود سرکار آب زمزم مشکیزوں و برتنوں میں لے گئے اور عرصہ تک وہ پانی بیماروں کو دواءً پلاتے رہے اور حضرت عائشہ صدیقہ سے بروایت صحیح ثابت ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کئی بار آبِ زمزم باہر بھیجا۔(مرقات)مدینہ پاک سے خاک شفا لانا اور اسے دواءً استعمال کرنا سنت مسلمین ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا "تربۃ ارضنا یشفی سقیمنا" ہماری زمین مدینہ کی مٹی بیماروں کو شفا دیتی ہے بلکہ وہاں کا گرد و غبار اپنے منہ اور سینہ پر لے، یہ برص و جذام کے لیے بہت مفید ہے،مسجد نبوی خصوصًا روضہ مطہرہ کا غبار مؤمنوں کی آنکھوں کا سرمہ ہے اور عشاق کے زخمی دلوں کا مرہم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2716