Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2723

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَن يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن يعلى بن أمية قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: احتكار الطعام في الحرم إلحاد فيه . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا حرم شریف میں غلہ بند رکھنا یہاں بے دینی کرنے کی طرح ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎احتکارکے معنے ہیں بوقت ضرورت انسان یا جانوروں کی خوراک کو روکنا تاکہ زیادہ قحط پڑنے پر فروخت کیا جائے،یہ حرکت ہر جگہ ہی جرم ہے کہ اس میں اللّٰه کی مخلوق کی ایذا رسانی ہے مگر مکہ معظمہ میں ایسی حرکت بہت ہی سخت جرم ہے،وہاں احتکار کرنے والا ابوجہل وغیرہ کفار کی طرح ہے جنہوں نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کرکے انہیں ستایا اور روزی ان پر تنگ کی،مکہ معظمہ کا غلہ روکنا ایسا سخت جرم ہے جیسے وہاں رہ کر بے دینی کرنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡهِ بِالحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ جیسے مکہ معظمہ میں نیکیوں کا ثواب بہت زیادہ ہے ایسے ہی وہاں گناہ کرنے کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔سیدنا عبداللّٰه ابن عباس مکہ معظمہ نہ رہے بلکہ وہاں سے کچھ فاصلہ پر طائف شریف میں رہے وہیں ہی آپ کا مزار پرانوار ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2723