Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2725

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللّٰهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ اللّٰهِ إِلَى اللّٰهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبد الله بن عدي بن حمراء قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا على الحزورة فقال: «والله إنك لخير أرض الله وأحب الله إلى الله ولولا أني أخرجت منك ما خرجت» . رواه الترمذي، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عدی ابن حمراء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو مقام حزورہ پر کھڑے ہوئے دیکھا ۱؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے اللّٰه کی قسم تو اللّٰه کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے اور اللّٰه کی تمام زمین میں خدا کو زیادہ پیاری ہے ۲؎اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو کبھی نہ نکلتا۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حزورہبروزنقسورہ،حکے فتح سے اورزکے جزم سے،اس کے معنے ہیں چھوٹا ٹیلہ،چونکہ یہاں کبھی ٹیلہ تھا اس لیے اس جگہ کا نام حزورہ ہوگیا،بعض نے فرمایا کہ قبیلہ جرہم کے بعد وکیع ابن سلمہ ابن زبیر ابن ایاد کعبہ معظمہ کا متولی ہوا اس نے یہاں ایک عمارت بنائی جس میں اپنی لونڈی حزور کو ٹھہرایا اس کے نام سے یہ جگہ حزورہ کہلائی پھر یہاں مکہ معظمہ کا بازار رہا،اب وہاں مسجد حرام کا ایک دروازہ ہے جسےباب الوداعکہتے ہیں۔
۲
؎علماء فرماتے ہیں کہ حاجی طواف وداع کرکے جب چلے تو کعبہ معظمہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے اور کچھ کلمات وداعیہ بھی منہ سے نکالے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ کلمات حج وداع میں کعبہ معظمہ سے رخصت ہوتے وقت فرمائے اورباب الوداعسے نکلے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اسی طرف سے روانہ ہوئے تھے،بلکہ اس وقت الٹے پاؤں کعبہ معظمہ کو دیکھتا ہوا روتا ہوا چلے کہ اگرچہ یہ عمل بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اور سیدنا ابن مسعود مرفوعًا فرماتے ہیں کہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ شئے اللّٰه کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ (مرقات)
۳
؎یہ حدیث بھی جمہور علماء کی دلیل ہے کہ مکہ معظمہ کی بستی مدینہ منورہ سے افضل ہے اور حضور انور کو بڑی پیاری ہے کیونکہ یہ فرمان ہجرت کے بہت عرصہ بعد ہے۔ خیال رہے کہ افضلیت میں یہ اختلاف بستیوں کے متعلق ہے،حضور کی قبر انور کا وہ حصہ جو جسم اطہر سے متصل ہے وہ مکہ معظمہ،کعبہ معظمہ بلکہ عرش معلے سے بھی افضل ہے۔(مرقات)شیخ نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی عمرہ قضاء میں ہے جب کہ تین دن کے بعد کفار مکہ نے آپ سے مکہ معظمہ خالی کردینے کے لیے کہا،بعض نے فرمایا کہ یہ بھی ہجرت کی شب تھا مگر یہ ضعیف ہے کہ اس وقت عبداللّٰه ابن عدی نے حضور کو کیونکر دیکھ لیا،بعض نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن ہے مگر یہ بھی ضعیف ہے کیونکہ اس وقت اخراج نہ تھا۔واللّٰه اعلم!(اشعہ)
۴
؎یہ حدیث بہت کتابوں میں بہت اسنادوں سے مروی ہے صحیح ہے اور بہت قوی ہے،طبرانی میں بسند ضعیف ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مدینہ مکہ سے افضل ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ حضور کی حیات شریفہ میں مدینہ منورہ بعد ہجرت افضل تھا،بعد وفات مکہ مکرمہ افضل۔(مرقات)
مسئلہ: مکہ مکرمہ کی ایک نیکی ایک لاکھ ہے اورایک گناہ بھی ایک لاکھ ہے،مدینہ منورہ کی ایک نیکی پچاس ہزار ہے مگر ایک گناہ ایک ہی ہے،اس کی بھی شفاعت سے بخشش کی امید ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیرونی آدمیوں کو مکہ معظمہ رہنے سے وہاں سے وطن لوٹ آنا افضل وہاں جاتا آتا رہنا بہتر،دیکھو حضرت ابن عباس نے بجائے مکہ معظمہ مکرّمہ کے طائف کو اپنا قیام گاہ قرار دیا،حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ارادۂ گناہ پر کہیں پکڑ نہیں سوائے مکہ مکرمہ کے،پھر آپ نے یہ آیت پڑھی"
وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡهِ بِالحَادٍۭ"الخ۔ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ جو مکہ مکرمہ کا رمضان پائے پھر وہاں کے روزہ اور تراویح کی پابندی کرے تو ایک لاکھ رمضانوں کا ثواب پائے گا اور ہر دن و ہر رات ایک ایک غلام آزاد کرنے اور ایک ایک غازی کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کا ثواب پائے گا۔مدینہ منورہ میں رہنا اور مرنا بھی بہت برکت کا باعث ہے بشرطیکہ وہاں کا احترام کرسکے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2725