- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2725
باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2725
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللّٰهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ اللّٰهِ إِلَى اللّٰهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
وعن عبد الله بن عدي بن حمراء قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا على الحزورة فقال: «والله إنك لخير أرض الله وأحب الله إلى الله ولولا أني أخرجت منك ما خرجت» . رواه الترمذي، وابن ماجه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عدی ابن حمراء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو مقام حزورہ پر کھڑے ہوئے دیکھا ۱؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے اللّٰه کی قسم تو اللّٰه کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے اور اللّٰه کی تمام زمین میں خدا کو زیادہ پیاری ہے ۲؎اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو کبھی نہ نکلتا۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)۴؎
شرح حدیث
۱∞؎حزورہبروزنقسورہ،حکے فتح سے اورزکے جزم سے،اس کے معنے ہیں چھوٹا ٹیلہ،چونکہ یہاں کبھی ٹیلہ تھا اس لیے اس جگہ کا نام حزورہ ہوگیا،بعض نے فرمایا کہ قبیلہ جرہم کے بعد وکیع ابن سلمہ ابن زبیر ابن ایاد کعبہ معظمہ کا متولی ہوا اس نے یہاں ایک عمارت بنائی جس میں اپنی لونڈی حزور کو ٹھہرایا اس کے نام سے یہ جگہ حزورہ کہلائی پھر یہاں مکہ معظمہ کا بازار رہا،اب وہاں مسجد حرام کا ایک دروازہ ہے جسےباب الوداعکہتے ہیں۔
۲؎علماء فرماتے ہیں کہ حاجی طواف وداع کرکے جب چلے تو کعبہ معظمہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے اور کچھ کلمات وداعیہ بھی منہ سے نکالے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ کلمات حج وداع میں کعبہ معظمہ سے رخصت ہوتے وقت فرمائے اورباب الوداعسے نکلے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اسی طرف سے روانہ ہوئے تھے،بلکہ اس وقت الٹے پاؤں کعبہ معظمہ کو دیکھتا ہوا روتا ہوا چلے کہ اگرچہ یہ عمل بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اور سیدنا ابن مسعود مرفوعًا فرماتے ہیں کہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ شئے اللّٰه کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ (مرقات)
۳؎یہ حدیث بھی جمہور علماء کی دلیل ہے کہ مکہ معظمہ کی بستی مدینہ منورہ سے افضل ہے اور حضور انور کو بڑی پیاری ہے کیونکہ یہ فرمان ہجرت کے بہت عرصہ بعد ہے۔ خیال رہے کہ افضلیت میں یہ اختلاف بستیوں کے متعلق ہے،حضور کی قبر انور کا وہ حصہ جو جسم اطہر سے متصل ہے وہ مکہ معظمہ،کعبہ معظمہ بلکہ عرش معلے سے بھی افضل ہے۔(مرقات)شیخ نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی عمرہ قضاء میں ہے جب کہ تین دن کے بعد کفار مکہ نے آپ سے مکہ معظمہ خالی کردینے کے لیے کہا،بعض نے فرمایا کہ یہ بھی ہجرت کی شب تھا مگر یہ ضعیف ہے کہ اس وقت عبداللّٰه ابن عدی نے حضور کو کیونکر دیکھ لیا،بعض نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن ہے مگر یہ بھی ضعیف ہے کیونکہ اس وقت اخراج نہ تھا۔واللّٰه اعلم!(اشعہ)
۴؎یہ حدیث بہت کتابوں میں بہت اسنادوں سے مروی ہے صحیح ہے اور بہت قوی ہے،طبرانی میں بسند ضعیف ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مدینہ مکہ سے افضل ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ حضور کی حیات شریفہ میں مدینہ منورہ بعد ہجرت افضل تھا،بعد وفات مکہ مکرمہ افضل۔(مرقات)
مسئلہ: مکہ مکرمہ کی ایک نیکی ایک لاکھ ہے اورایک گناہ بھی ایک لاکھ ہے،مدینہ منورہ کی ایک نیکی پچاس ہزار ہے مگر ایک گناہ ایک ہی ہے،اس کی بھی شفاعت سے بخشش کی امید ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیرونی آدمیوں کو مکہ معظمہ رہنے سے وہاں سے وطن لوٹ آنا افضل وہاں جاتا آتا رہنا بہتر،دیکھو حضرت ابن عباس نے بجائے مکہ معظمہ مکرّمہ کے طائف کو اپنا قیام گاہ قرار دیا،حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ارادۂ گناہ پر کہیں پکڑ نہیں سوائے مکہ مکرمہ کے،پھر آپ نے یہ آیت پڑھی"وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡهِ بِالحَادٍۭ"الخ۔ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ جو مکہ مکرمہ کا رمضان پائے پھر وہاں کے روزہ اور تراویح کی پابندی کرے تو ایک لاکھ رمضانوں کا ثواب پائے گا اور ہر دن و ہر رات ایک ایک غلام آزاد کرنے اور ایک ایک غازی کو میدانِ جنگ میں بھیجنے کا ثواب پائے گا۔مدینہ منورہ میں رہنا اور مرنا بھی بہت برکت کا باعث ہے بشرطیکہ وہاں کا احترام کرسکے۔ (مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2725