Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2718

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلٰى رَأْسِهِ المِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهٗ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقْتُلْهُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة يوم الفتح وعلى رأسه المغفر فلما نزعه جاء رجل وقال: إن ابن خطل متعلق بأستار الكعبة. فقال: «اقتله»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم فتح کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سر پر خود تھا ۱؎پھر جب خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے فرمایا اسے قتل کردو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ بغیر احرام مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ورنہ سر مبارک کھلا ہوتا،آج چونکہ زمین حرم حضور انور کے لیے حلال ہوگئی تھی کہ وہاں قتال حلال ہوگیا تھا اس لیے آج بغیر احرام داخلہ بھی حضور انور کا درست ہوگیا لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں کہ کسی نیت سے مکہ معظمہ جائے احرام و عمرہ ضروری ہے اور نہ یہ حدیث شوافع کی دلیل ہے کہ جو کسی اور کام کے لیے مکہ معظمہ جائے وہ بغیر احرام جاسکتاہے۔
۲
؎یہ خبر دینے والے فضل ابن عبید یعنی ابو برزہ اسلمی تھے،ابن خطل کا نام عبداللّٰه اور لقب غالب تھا،یہ پہلے مسلمان ہوا پھر اپنے ایک خادم مسلمان کو قتل کرکے مرتد ہوکر مکہ معظمہ بھاگ آیا تھا،آج ڈر کے مارے غلاف کعبہ میں چھپ گیا،چونکہ آج زمین حرم میں قتال جائز تھا اس لیے اسے قصاصًا یا مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کرا دیا گیا یا تو حرم شریف میں یا وہاں سے باہر نکال کر ورنہ باہر کا مجرم اگر حرم میں آجائے تو اسے قتل نہیں کیا جاتا،رب تعالٰی فرماتا فرماتاہے:"وَمَنۡ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا"بعض امام حرم شریف میں حدو قصاص جائز مانتے ہیں اس حدیث کی بنا پر مگر یہ استدلال ضعیف ہے،ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ حضورا نور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میقات سے آگے بغیر احرام نہ بڑھو،نیز فرماتے ہیں کہ میرے لیے ایک ساعت کے واسطے یہ حرم کی زمین حلال کردی گئی تھی اب پھر اس کی حرمت لوٹ آئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2718