Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6069

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهٖ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ - أَوْ سَاقَيْهِ - فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهٗ وَهُوَ عَلٰى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهٗ وَهُوَ كَذٰلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوّٰى ثِيَابَهٗ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهٗ وَلَمْ تُبَالِهٖ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهٗ وَلَمْ تُبَالِهٖ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَان فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ فَقَالَ: «أَلَا أَسْتَحَيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِيمِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهٗ عَلٰى تِلْكَ الْحَالَةِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مضطجعا في بيته كاشفا عن فخذيه - أو ساقيه - فاستأذن أبو بكر فأذن له وهو على تلك الحال فتحدث ثم استأذن عمر فأذن له وهو كذلك فتحدث ثم استأذن عثمان فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وسوى ثيابه فلما خرج قالت عائشة: دخل أبو بكر فلم تهتش له ولم تباله ثم دخل عمر فلم تهتش له ولم تباله ثم دخل عثمان فجلست وسويت ثيابك فقال: «ألا أستحيي من رجل تستحييمنه الملائكة؟»وفي رواية قال: «إن عثمان رجل حيي وإني خشيت إن أذنت له على تلك الحالة أن لا يبلغ إلي في حاجته» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا اپنی پنڈلیاں کھولے ۱؎تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات چیت کی،پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی ۲؎پھر انہوں نے بھی بات چیت کی،پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے ۳؎جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان آئے پھر تو آپ بیٹھ گئے ۴؎اور اپنے کپڑے درست کرلیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچاسکیں گے۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بے پرواہی سے لیٹے ہوئے تھے جس سے آپ کی پنڈلیاں یا ران شریف کھلی تھیں۔خیال رہے کہ حضرت امام مالک کے نزدیک مرد کی ران ستر نہیں باقی آئمہ کے ہاں یہ ستر ہے،حضرت امام مالک کی دلیل یہ حدیث ہے مگر یہ استدلال کچھ ضعیف سا ہے کیونکہ اول تو خود راوی کو شک ہے کہ ران کھلی تھی یا پنڈلی اس شک کے ہوتے ہوئے استدلال درست کیسے ہوسکتا ہے اور اگر مان بھی لیا جائے کہ ران کھلی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بالکل ننگی تھی،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ران سے قمیض ہٹی ہوئی تھی تہبند شریف اس جگہ پر تھا۔عاری اور کاشف میں بڑا فرق ہے۔ (مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی ان دونوں صاحبوں کی آمد پر حضور انور نے کوئی تکلف نہیں فرمایا اسی طرح بے پرواہی سے آرام فرما رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات باریاب بارگاہ اور صاحب اسرار بے تکلف محبوب ہیں۔
۳
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہو رہا ہے کہ ران شریف کھلی ہوئی نہ تھی بلکہ اس سے قمیض ہٹی ہوئی تھی ورنہ ارشاد ہوتاسترھااسے ڈھک لیا۔اسسوی ثیابہنےکاشفًاکے معنی واضح کر دیئے کہ وہاں قمیض ہٹانا مراد تھا نہ کہ بالکل برہنہ ہونا۔
۴
؎یعنی اس فرق کی وجہ کیا ہے یہ تینوں حضرات حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے خاص خدام ہیں پھر برتاوے میں یہ فرق کیوں ہے۔
۵
؎سبھی فرشتے بھی حضرت عثمان سے شرم کرتے ہیں ان کی توقیروتعظیم کا اہتمام فرماتے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ کا عقد فرمایا تو حضرت عثمان بھی وہاں موجود تھے ان کے سینے سے کرتہ ہٹ گیا تو وہاں کے موجود فرشتے اس مجلس سے ہٹ گئے،حضور انور نے ملائکہ سے ہٹنے کی وجہ پوچھی انہوں نے کہا حضرت عثمان سے ہم کو شرم آتی ہے،حضرت عثمان کی شرم و حیاء کا یہ حال تھا کہ آپ غسل خانہ میں تہبند باندھ کر غسل کرتے تھے صرف اوپر کا بدن برہنہ ہوتا تھا تب بھی آپ سیدھے نہ بیٹھتے تھے شرم سے جھکے ہوئے ہی غسل فرماتے تھے۔(مرقات)آپ نے کبھی اپنی شرم گاہ کو نہ دیکھا،اس چمن کے ہر پھول کا رنگ و بو علیحدہ ہے۔
۶
؎یعنی اگر ہم حضرت عثمان کے سامنے اسی بے تکلفی سے لیٹے رہے تو وہ اتنے شرمیلے ہیں کہ یہاں نہ بیٹھ سکیں گے نہ مجھ سے بات کرسکیں گے نہ وہ عرض پوری کرسکیں گے جس کے لیے ملنے وہ یہاں آئے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی مولٰی میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہے توکل قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم و حیاء کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہوکر حساب نہ دے سکے گا۔چنانچہ پہلے حساب ابوبکر کا ہوگا پھر عمر کا پھر علی کا پھر دوسروں کا حضرت عثمان کا حساب ہوگا ہی نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6069