Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6073

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهٖ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهٖ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهٖ وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن عبد الرحمن بن سمرة قال: جاء عثمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم بألف دينار في كمه حين جهز جيش العسرة فنثرها في حجره فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقلبها في حجره ويقول: «ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم» مرتين. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبدالرحمان ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ عثمان نے جب لشکر عسرت کو سامان دیا تو اپنی آستین میں ہزار اشرفیاں لائے انہیں حضور کی گود میں ڈال دیا ۱؎میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی عمل جو وہ کریں نقصان نہ دے گا۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صدقہ دینے میں جلدی کرے ٹال مٹول نہ کرے فورًا صدقہ دے۔دوسرے الله کی راہ کا صدقہ حضور کی بارگاہ میں پیش کردو وہ موقعہ بموقعہ خرچ کریں جس سے وہ صدقہ بارگاهِ الٰہی میں قبول ہوجائے۔دیکھو حضرت عثمان نے یہ اشرفیاں خود غازیوں پر صرف نہ کیں حضور کی بارگاہ میں پیش کیں،رب فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِهِمْ صَدَقَۃً تُطَهِرُهُمْ وَتُزَكِیۡهِمۡ بِھَا"صدقہ کے ذریعہ حضور مسلمانوں کو پاک فرماتے ہیں اس لیے آج بھی ایصال ثواب کرتے وقت مسلمان کہتے ہیں نذرالله نیاز رسول اللہ۔
۲
؎اس فرمان عالی میں حضرت عثمان غنی کو تین بشارتیں دی گئیں: ایک یہ کہ ان کے سارے گذشتہ گناہ اور خطائیں معاف ہوگئیں ان کا آج کا یہ عمل ان کا کفارہ بن گیا۔دوسرے یہ آئندہ وہ گناہوں سے محفوظ رہیں گے۔تیسرے یہ کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔(ازمرقات)یہ ہے حضورصلی الله علیہ و سلم کا علوم خمسہ پر مطلع ہونا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے اعلان تو چھ سو کا کیا تھا مگر دیئے نو سو پچاس اونٹ،پھر ہزار کے تکملہ کے لیے پچاس گھوڑے مع سازو سامان کے حاضر کیے اس طرح کل ایک ہزار سواریاں اور ایک ہزار اشرفیاں حاضر کیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6073