Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6082

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ حَبِيْبَةَ أَنَّهٗ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهٗ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهٗ فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهٗ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ»وَهُوَ يُشِيرُ إِلٰى عُثْمَانَ بِذٰلِكَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل ِالنُّبُوَّةِ»

وعن أبي حبيبة أنه دخل الدار وعثمان محصور فيها وأنه سمع أبا هريرة يستأذن عثمان في الكلام فأذن له فقام فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنكم ستلقون بعدي فتنة واختلافا أو قال: اختلافا وفتنة فقال له قائل من الناس: فمن لنا يا رسول الله؟ أو ما تأمرنا به؟ قال: «عليكم بالأمير وأصحابه»وهو يشير إلى عثمان بذلك. رواهما البيهقي في «دلائل النبوة»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوحبیبہ سے ۱؎کہ وہ حضرت عثمان کے گھر گئے جب عثمان اس میں محصور تھے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو سنا کہ وہ حضرت عثمان سے گفتگو کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے ۲؎آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ کھڑے ہوئے ۳؎الله کی حمد و ثنا کی پھر کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میرے بعد فتنہ اور اختلاف دیکھو گے یا فرمایا کہ اختلاف اور فتنہ۴؎تو لوگوں میں سے ہی کسی کہنے والے نے کہا کہ اس وقت ہمارا کون ہوگا یا اس وقت آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تم اس اسیر کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا اور آپ حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرتے تھے۵؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمرو ابن نصیر ہے،حازی ہیں،ہمدانی ہیں،تابعی ہیں،حضرت علی سے روایات لیتے ہیں۔
۲
؎یعنی ابوحبیبہ جب حضرت عثمان کے پاس حاضر ہوئے تو وہاں جناب ابوہریرہ کو پایا کہ وہ آپ سے اجازت مانگ رہے تھے کہ مجھے اجازت دیجئے میں آپ کے متعلق ان محاصرہ کرنے والے باغیوں سے کچھ گفتگو اور فہمائش کروں کہ وہ اس حرکت سے باز آجائیں یا خود حضرت عثمان سے کچھ عرض و معروض کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ آپ سے اس وقت کلام کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا۔
۳
؎حضرت ابوہریرہ یا تو اس گھر کی چھت پرکھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کرنے کو یا ان باغیوں میں آکر کھڑے ہوئے بہرحال خطاب باغیوں ہی سے کیا جہاں سے بھی کیا۔
۴
؎یہ شک کسی اور راوی کو ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو نہیں یعنی حضرت ابوہریرہ نے فتنہ و اختلاف فرمایا یااختلافًا وفتنۃًفرمایا۔بہرحال اس اختلاف اور فتنہ سے مراد حضرت عثمان غنی کے زمانہ کا یہ فتنہ و اختلاف ہے جو آج موجود ہے۔
۵
؎یعنی اس وقت حضرت عثمان خلیفہ برحق ہوں گے ان کے ساتھی حق پر ہوں گے تم سب کو امان عثمان کے دامن میں ملے گی تو اے باغیوں بغاوت سے باز آجاؤ۔خیال رہے کہ ان صحابہ نے باغیوں کو فہمائش تو کی مگر کسی نے ان سے جنگ نہ کی جس کی وجہ ہم ابھی اوپر عرض کرچکے۔حضرت عثمان غنی نے قسمیں دے دے کر اپنے غلاموں اور دوستوں کو جنگ سے روکا خود جب شہید ہوئے تو بچاؤ کے لیے اپنا ہاتھ بھی نہ اٹھایا۔آپ سید العابدین ہیں حضور انور کے عہد پر قائم،قاتل نے پہلے آپ کا ہاتھ کاٹا تو آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اسی ہاتھ نے قرآن لکھا تھا،آپ قرآن مجید پڑھ رہے تھے، جب گردن کاٹی گئی تو خون کا پہلا قطرہ اس آیت پر گرا "فَسَیَکْفِیۡكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ"۔وہ قرآن اب بھی تاشقند میں موجود ہے جس پر خون عثمان کے دھبے ہیں،اس کا فوٹو ہمارے صدر پاکستان محمد ایوب خان کو تاشقند والوں نے دیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6082