Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6076

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: «هٰذَايَوْمئِذٍ عَلَى الْهُدٰى» فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.قَالَ:فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ. فَقُلْتُ: هٰذَا ؟ قَالَ: « نَعَمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

وعن مرة بن كعب قال: سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر الفتن فقربها فمر رجل مقنع في ثوب فقال: «هذايومئذ على الهدى» فقمت إليه فإذا هو عثمان بن عفان.قال:فأقبلت عليه بوجهه. فقلت: هذا ؟ قال: « نعم».رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذاحديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مرہ ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو سنا جب کہ آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور انہیں بہت قریب بتایا ۱؎تو ایک شخص چادر پوش گزرا تو فرمایا کہ اس دن یہ ہدایت پر ہوگا۲؎میں اس شخص کی طرف اٹھا تو وہ عثمان ابن عفان تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا چہرہ حضور کے سامنے کیا اور کہا کہ کیا یہ فرمایا ہاں (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں فتنوں سے مراد وہ جنگ و جدال ہیں جو حضور صلی الله علیہ و سلم کے بعد مسلمانوں میں ہونے والے تھے۔قربھاکے معنی یہ ہیں کہ فرمایا وہ فتنے قریب ہی ہونے والے ہیں۔
۲
؎مقنعبنا ہےقناعسے بمعنی گھونگھٹ یعنی ایک صاحب چادر اوڑھے چادر میں اپنا منہ چھپائے ہوئے گزرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6076