Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6081

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلٰى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا نُقَاتِلُ؟ قَالَ:لَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفسِيْ عَلَيْهِ

وعن أبي سهلة مولى عثمان قال: جعل النبي صلى الله عليه وسلم يسر إلى عثمان ولون عثمان يتغير فلما كان يوم الدار قلنا: ألا نقاتل؟ قال:لا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي أمرا فأنا صابر نفسي عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان کے مولٰی ابو سہلہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم حضرت عثمان سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان کا رنگ بدلنے لگا۲؎پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں فرمایا نہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے ہوئے ہوں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ابو سہلہ حضرت عثمان ابن عفان کے آزاد کردہ غلام تھے آپ کا نام اور آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے حضرت عثمان کے اس وقت مدینہ منورہ میں دو سو غلام موجود تھے۔
۲
؎معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے شہادت عثمان کے ہر واقعہ کی حرف بہ حرف موبمو تفصیل وار خبر دے دی تھی یہ ہے حضور کا علم غیب۔
۳
؎یعنی مجھ سے حضور نے عہد لیا ہے کہ اس موقعہ پر صبر کروں،قاتلوں کا مقابلہ نہ کروں،خلافت نہ چھوڑوں اس عہد کی بنا پر حضرت عثمان نے نہ تو خود اپنا دفاع کیا نہ اپنے کسی غلام کو نہ کسی دوست کو جنگ کی اجازت دی،ورنہ آپ کے اپنے اتنے غلام تھے کہ باقاعدہ باغیوں سے جنگ کرسکتے تھے آپ جانتے تھے کہ اب میری شہادت یقینی ہے میں زمین مدینہ کو خون سے کیوں رنگین کراؤں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6081