Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6077

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّهٗ لَعَلَّ اللّٰهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلٰى خَلْعِهٖ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ فِي الحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا عثمان إنه لعل الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهم» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي في الحديث قصة طويلة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے عثمان ممکن ہے ۱؎کہ الله تعالٰی تم کو ایک قمیض پہنائے تو اگر لوگ تم سے اس کا اتار دینا چاہیں تو تم ان کی وجہ سے اسے مت اتارنا۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث میں بڑا قصہ ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!کیسی تحقیق ہے کہ حضور انور کو ان کا چہرہ دکھا کر کہلوا لیا کہ کیا یہ ہی اس دن ہدایت پر ہوں گے تاکہ کوئی یہ نہ ہے کہ حضور انور کو دھوکا ہوگیا تھا آپ نے کسی اور کے لیے کہا تھا مگر وہ اتفاقًا عثمان تھے آپ پہچان نہ سکے۔ہر زمانے میں فاضل دیوبند موجود رہے ہیں یعنی حضور کے کمالات کے انکاری۔خیال رہے کہ اس حدیث کی راوی مرہ ابن کعب صحابی ہیں،شام میں رہتے تھے، ۵۵ھ؁ ∞ پچپن میں اردن میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی الله تعالٰی آپ کو خلافت عطا فرمائے گا لوگ تم کو معزول کرنا چاہیں گے تم ان کے کہنے سے خلافت سے دست بردار نہ ہونا کیونکہ تم حق پر ہوؤ گے وہ باطل پر،اگر تم دست بردار ہوگئے تو لوگ شبہ کریں گے کہ شاید تم حق پر ہی نہیں،نیز پھر یہ رواج پڑ جاوے گا کہ جس خلیفہ یا سلطان سے لوگ ناراض ہوئے اسے معزول کردیا،اس سے ممالک اسلامیہ میں فساد پھیلے گا۔حضور کے فرمان کے مطابق بالکل ایسا ہی ہوا کہ باغیوں نے آپ سے یہ ہی مطالبہ کیا کہ آپ خلافت سے الگ ہوجائیں آپ نے جام شہادت نوش فرما کر جان دے دی مگر خلافت سے علیحدگی قبول نہ کی یہ اس حکم پر عمل تھا،باغیوں سے جنگ بھی نہ کی تاکہ زمین مدینہ میری وجہ سے مسلمانوں کے خون سے رنگین نہ ہوجائے۔
۳
؎وہ قصہ یہ ہے کہ مصری لوگ حضرت عثمان کے عامل کی شکایت آپ کے پاس لائے اور اس کی معزولی اور محمد ابن ابوبکر کو عامل بنانے کا مطالبہ کیا آپ نے منظور کیا،معزول نامہ لکھ کر انہیں دے دیا وہ چلے گئے کہ مصر کے راستہ میں مروان ابن حکم کی حرکت سے ایک واقعہ پیش آیا جس سے وہ سب پھر لوٹ آئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ مروان کو ہمارے حوالہ کرو،آپ نے انکار کیا اس پر آپ کو بہت روز محصور رکھ کر شہید کردیاانا للهو انا الیہ راجعون،اسلام میں یہ پہلا فتنہ واقع ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6077