- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6074
باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6074
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ رَسُولَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللّٰهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ بِإِحْدٰى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرٰى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيْهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن أنس قال: لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببيعة الرضوان كان عثمان رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مكة فبايع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن عثمان في حاجة الله وحاجة رسوله» فضرب بإحدى يديه على الأخرى فكانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان خيرا من أيديهم لأنفسهم. رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے بیعت الرضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے قاصد تھے ۱؎مکہ کی طرف حضور نے لوگوں سے بیعت لی۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عثمان الله کے اور اس کے رسول کے کام میں گئے ہیں۳؎پھر حضور نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا ہاتھ عثمان کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہوگیا جو ان کے اپنے لیے تھا۴؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎جیسے کفار مکہ کی طرف سے کچھ نمائندے حضور کی خدمت میں صلح کی بات چیت کرنے آئے تھے یوں ہی حضرت عثمان حضور کی طرف سے کفار مکہ کے پاس صلح کی بات کرنے گئے کیونکہ کفار پر ان کے بہت احسانات تھے وہ لوگ آپ کا احترام کرے تھے،ادھرلشکر اسلام میں یہ افواہ پھیل گئی کہ کفار مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کردیا اس پر حضور نے سب مسلمانوں سے بیعت جہاد لی کہ یہ بیعت حضرت عثمان کے لیے ہی لی گئی۔اسے بیعۃ الرضوان اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے متعلق رب نے فرمایا: "لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"گویا یہ بیعت رضا الٰہی کا تمغہ ملنے کا ذریعہ تھی۔
۲؎یہ بیعت بیعت جہاد تھی حضور انور نے لوگوں سے اسلام پر بھی بیعت لی ہے نیک اعمال کرنے پر بھی اور گناہوں سے بچنے پربھی کسی سے سوال نہ کرنے پربھی اورکسی خاص عمل پر بھی،یہ بیعت یہ ہی آخری بیعت تھی یعنی خاص عمل پر۔یہ بیعتیں موجودہ مروّجہ بیعتوں کی اصل ہیں جو اولیاء الله سے کی جاتی ہیں۔
۳؎یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں،الله تعالٰی ضرورت سے پاک ہے بلکہ بمعنی کام یا خدمت ہے۔چونکہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو فنا فی الله کا درجہ حاصل تھا اس لیے حضور کا کام الله کا کام ہے ورنہ حضرت عثمان حضور کے کام کے لیے گئے تھے۔(مرقات)روایات میں ہے کہ کفار نے حضرت عثمان سے کہا کہ کعبہ حاضر ہے آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت ہے آپ خوب طواف عمرہ کریں سنگِ اسود کو بوسے دیں،حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں حضور انور کے بغیر کعبہ کو دیکھوں گا بھی نہیں۔چنانچہ آپ کعبہ میں نہیں گئے یہاں صحابہ نے حضورصلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عثمان تو خوب عمرہ کریں گے حضور نے فرمایا کہ میرا عثمان میرے بغیر نہ عمرہ کرے گا نہ طواف یہ ہے حضرت عثمان کا ایمان کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دولہا کے بغیر برات کیسی۔
۴؎حضور انور نے خیال فرمایا کہ یہ بیعت بڑی ہی عظمت و عزت کا ذریعہ ہے اس کا چرچہ قرآن میں آوے گا اور تاقیامت رہے گا،اس سے میرا عثمان محروم نہ رہے تو سب کو دکھا کر فرمایا کہ میرا ایک ہاتھ عثمان کا ہے اور دوسرا ہاتھ میرا اور میں خود عثمان کی طرف سے اپنے سے بیعت کرتا ہوں حضور کو یہ بھی علم غیب تھا آپ مکے میں شہید نہیں کیے گئے خود مرید خود مراد۔
مصرع خود کوزہ گر خود کوزہ خود گل گوزہ
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6074