Main Icon

باب: ہنسنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4745

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن عائشة قالت: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم مستجمعا ضاحكا حتى أرى منه لهواته إنما كان يتبسم. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا ہنستے نہ دیکھا حتی کہ میں آپ کے انتہائی تالو دیکھ لیتی ۱∞؎آپ مسکرایا کرتے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تفسیر ہےمستجمعاکی یعنی اس طرح ہنستے نہ دیکھا کہ آپ کا منہ شریف کھل جاتا اور میں آپ کے تالو کا آخری حصہ دیکھ لیتی۔لہواتجمع ہےلہاتکی،لہاتوہ پارۂ گوشت جو تالو کی انتہا اور حلق سے متصل ہے حضور انور اس طرح ساری عمر کبھی نہ ہنسے۔
۲
؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے کبھی نہ تھے مسکراتے بہت تھے،ہنسنا قلب میں غفلت پیدا کرتا ہے تبسم خوش اخلاقی ہے اس سے سامنے والے کو خوشی ہوتی ہے۔شعر
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں اُس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4745