Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2627

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهٖ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ وَسَلَّتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهٗ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهٖ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالحَجِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن ابن عباس قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن وسلت الدم عنها وقلدها نعلين ثم ركب راحلته فلما استوت به على البيداء أهل بالحج. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مقام ذوالحلیفہ میں ظہر پڑھی ۱؎پھر آپ نے اونٹنی منگائی اس کے کوہان کے داہنے حصہ میں نیزہ مارا اور اس سے خون لیپ دیا اور دو جوتوں کا اسے ہار پہنایا۲؎پھر اپنی سواری پر سوار ہوگئے پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر بیداء میدان میں سیدھی ہوئی تو حج کا تلبیہ پڑھا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حج وداع کے موقعہ پر اور یہیں سے احرام باندھا،یہ جگہ اہل مدینہ کا میقات ہے جو مدینہ منورہ سے قریبًا تین میل فاصلہ پر ہے،اب اسے بیر علی کہتے ہیں۔
۲
؎یہ اونٹنی ہدی کی تھی منجملہ دیگر اونٹنیوں کے،اہل جاہلیت ہدی کے جانور کا کوہان چیرکر اس کا کوہان خون سے رنگ دیتے تھے اور گلے میں جوتا ڈال دیتے تھے تاکہ یہ ہدی کی علامت ہو،کوئی ڈاکو و چور اس پر حملہ نہ کرے اور اگر یہ جانور راستہ میں تھک کر رہ جائے کہ اسے وہیں ذبح کرنا پڑ جائے تو اس کا گوشت اس علامت کی بنا پر صرف فقراء کھائیں امیر نہ کھائیں،چونکہ اس کام میں کوئی برائی نہ تھی فائدہ ہی تھا اس لیے اسلام نے اسے باقی رکھا،یہ فصد و ختنہ اور زخم پر داغ لگانے کی طرح ہے،ہمارے امام صاحب نے مطلقًا اشعار (کوہان چیرنا)کو منع نہ فرمایا،بلکہ اپنے زمانہ کے اشعار کو منع کیا کہ لوگ اتنا گہرا گھاؤ لگاتے تھے جو ہدی میں سرایت کر جاتا تھا اور مکہ مکرمہ پہنچتے پہنچتے اس میں کیڑے پڑ جاتے تھے،غرضکہ جسے اشعارکرنا نہ آئے اسے مکروہ ہے۔(مرقات،لمعات،اشعہ) دیکھو آج عمومًا اونٹ کو ذبح کرتے ہیں نحر نہیں کرتے کیونکہ نحر جانتے نہیں حالانکہ اونٹ میں نحر سنت ہے۔خیال رہے کہ اشعار صرف اونٹ اور گائے میں ہوگا بکری میں نہ ہوگا کیونکہ وہ کمزور ہے،اس میں صرف ہار ڈالا جائے گا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
۳
؎یعنی احرام کے سارے کام غسل،تبدیلی لباس اور نوافل تو پہلے ادا کرلیے مگر بلند آواز سے تلبیہ اب کہا جائے گا،یہاں فقط حج کا ذکر ہے مگر حضرت انس کی روایت میں جو مسلم،بخاری میں ہے حج و عمرہ دونوں کا ذکر ہے۔حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قران کیا تھا شاید اس روای نے لفظ عمرہ سنا نہیں یا اس کا ذکر نہیں کیا کہ حج مقصود ہے اور عمرہ تابع۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2627