Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2629

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عائشة بقرة يوم النحر. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ کی طرف سے بقر عید کے دن ایک گائے قربانی کی ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ قربانی ہے جو مدینہ منورہ میں کی گئی۔گائے میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں مگر ایک کی طرف سے بھی جائز ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ گائے کی قربانی بھی سنت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہے۔دوسرے یہ کہ کسی کا کار مختار اس کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے،اذن خصوصی سے بھی اور اذن عمومی سے بھی اس لیے کہ یہاں ام المؤمنین کی خصوصی اجازت لینے کا ذکر نہیں، اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو محض ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے قربانی گائے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خلاف اسلام ہے، مرقات نے فرمایا کہ افضل قربانی اونٹ کی ہے پھر گائے کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2629