Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2641

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدُنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُونَهَا».رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن ناجية الخزاعي قال: قلت: يا رسول الله كيف أصنع بما عطب من البدن؟ قال: «انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فيأكلونها».رواه مالك والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ناجیہ خزاعی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه اس ہدی اونٹ کا میں کیا کروں جو تھک کر رہ جائے فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کی جوتی اس کے خون میں بھگو دو پھر اسے لوگوں میں چھوڑو کہ اسے کھالیں ۲؎(مالک،ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ذکوان ابن جندب یا ابن عمرو ہے،چونکہ آپ نے قریش کے شر سے نجات حاصل کی تھی اس لیے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے آپ کا نام ناجیہ رکھا یعنی بہت نجات پانے والا۔امیر معاویہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،آپ کا لقب صاحبِ بدن ہے یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے بدنے لے جانے والے۔(اکمال،اشعہ)
۲
؎یعنی جوہدی حرم شریف تک نہ پہنچ سکے راستہ ہی میں مرنے لگے تو اسے وہاں ہی ذبح کردو اور تمہارے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں میں جو غریب فقیر ہوں وہ اس کا گوشت کھائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہدی کا جانور صرف حرم شریف میں ذبح ہوسکتا ہے اور جگہ نہیں،اگر اس کی قربانی دوسری جگہ بھی ہوجاتی تو ہر فقیر وامیر بلکہ خود قربانی والے کو بھی کھانا جائز ہوتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار جانور کا گوشت حلال ہے،حرام یا مکروہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2641