Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2645

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نُبَيْشَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:« إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ، جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ جَاءَ اللّٰهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَائْتَجِرُوا أَلَا وَإِنَّ هٰذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وذِكْرِ اللّٰهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن نبيشة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:« إنا كنا نهيناكم عن لحومها أن تأكلوها فوق ثلاث لكي تسعكم، جاء الله بالسعة جاء الله بالسعة فكلوا وادخروا وائتجروا ألا وإن هذه الأيام أيام أكل وشرب وذكر الله» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نبیشہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم نے تم لوگوں کو قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا تاکہ تم سب کو فراخی ہو ۱؎اب اللّٰه تعالٰی نے گنجائش و غنا بخش دی لہذا اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور ثواب کماؤ ۲؎یہ کھانے پینے اور ذکر الٰہی کرنے کے دن ہیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ تھوڑے گوشت کو امیر فقیر سب مل بانٹ کر کھائیں،یعنی وہ گوشت تم سب میں کچھ نہ کچھ پہنچ جائے۔
۲
؎یعنی خیرات کرکے ثواب کماؤ یعنی کچھ کھاؤ،کچھ بچاؤ،کچھ خیرا ت کرو،کھانے میں اپنا کھانا بھی داخل ہے اور دوست و احباب کا بھی۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کر نا بہتر ہیں:ایک اپنے لیے،دوسرا حباب کے لیے تیسرا فقراء کے لیے،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس گوشت کے کھانے،بچانے،لٹانے سب میں ثواب ہے۔
۳
؎اسی لیے ان دونوں یعنی ایام تشریق میں روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ سب مسلمان اللّٰه کے مہمان ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2645