Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2638

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلٰى بُدُنِهٖ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن علي قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقوم على بدنه وأن أتصدق بلحمها وجلودها وأجلتها وأن لا أعطي الجزار منها قال: «نحن نعطيه من عندنا» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ آپ کے قربانی کے اونٹوں کا انتظام کروں ۱؎اور ان کے گوشت کھالیں اور جھولیں خیرات کردوں ۲؎اور یہ کہ ان میں سے قصائی کو کچھ نہ دوں فرمایا ہم قصائی کو اپنے پاس سے اجرت دیں گے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ حج وداع کا ہے،حضور انور نے سو اونٹ قربان کیے تھے کچھ اپنے دست اقدس سے اور کچھ حضرت علی سے قربانی کرائے،ان اونٹوں کے متعلق یہاں ذکر ہے جو جناب علی سے قربانی کرائے گئے۔
۲
؎اب بھی قربانی اور ہدی وغیرہ کا یہ ہی حکم ہے،جھول سے مراد وہ جھولیں ہیں جو قربانی کے جانور کے لیے خریدی گئی ہوں یا اس کے ساتھ آئی ہوں اور اگر اپنے پالتو جانوروں کی جھول قربانی کے جانور پر عارضی طور سے ڈال دی تو وہ اپنی ملکیت ہے اپنے کام میں لائے، کھال کا خیرات کردینا استحبابی حکم ہے،اگر چاہے تو قربانی والا اپنے کام میں لائے،جوتا یا ڈول،مصلے وغیرہ بنالے لیکن اگر کھال فروخت کر دی تو قیمت خیرات ہی کرنی پڑے گی۔
۳
؎قالکا فاعل نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہیں یعنی ہم قصائی کی مزدوری اپنی گرہ سے ادا کریں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ قصائی کو اجرت میں قربانی کا گوشت،جھول،کھال وغیرہ دینا ہرگز جائزنہیں،اسے اجرت علیحدہ دو،ہاں اجرت کے علاوہ اسلامی رشتہ سے اسے کچھ گوشت دے دو تو حرج نہیں۔ہمارے پنجاب میں قصائی قربانی کی مزدوری بھی لیتے ہیں اور خود ہی گوشت بھی رکھ لیتے ہیں بعض دفعہ وہ گوشت فروخت کرتے بھی دیکھے گئے یہ سخت ناجائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2638