Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2631

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ كانَ أُحِلَّ لَهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: فتلت قلائد بدن النبي صلى الله عليه وسلم بيدي ثم قلدها وأشعرها وأهداها فما حرم عليه كان أحل له(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم کی ہدیوں کے ہار بٹے حضور نے انہیں پہنائے اور ان کا اشعار کیا اور ان کی ہدی بھیجی ۱؎اس سے آپ پر کوئی حلال چیز حرام نہ ہوگی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے حج سے ایک سال پہلے کا ہے جب آپ نے حضرت ابوبکر صدیق کو حج کے موقعہ پر مکہ معظمہ کچھ اعلانات کے لیے امیر حج بنا کر بھیجا۔
۲
؎ام المؤمنین کو خبر پہنچی تھی کہ سیدنا عبداللّٰه ابن عباس ہدی بھیجنے والے کو محرم مانتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب تک مکہ معظمہ میں اس کی ہدی ذبح نہ ہوجائے تب تک یہ تمام ممنوعات احرام سے بچے ان کے جواب میں آپ یہ فرمارہی ہیں کہ ہدی بھیجنے سے انسان محرم نہیں ہوجاتا۔سیدنا عبداللّٰه ابن عمر،عطاء،مجاہد،سعید ابن جبیر کا بھی یہی مذہب تھا،شاید ان بزرگوں کو یہ حدیث پہنچی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2631