Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2637

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهٗ أَتٰى عَلٰى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بُدْنَتَهٗ يَنْحَرُهَا قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر : أنه أتى على رجل قد أناخ بدنته ينحرها قال: ابعثها قياما مقيدة سنة محمد صلى الله عليه وسلم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ ایک شخص پر گزرے جس نے ہدی کا اونٹ نحر کرنے کے لیے بٹھایا تھا فرمایا اسے اٹھا کر کھڑا کرو پاؤں باندھ دے،یہ محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ اونٹ کی نحر سنت ہے اور ذبح خلاف اولیٰ۔نحر کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے اونٹ کا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیں،پھر سینے سے متصل گردن میں نیزہ ماریں اور اوپر کو کھینچیں تاکہ رگیں و حلقوم طول میں چر جائیں جب گرجائے تو استعمال کریں لیکن جسے نحر نہ آتا ہو وہ ذبح کرے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیۡھَا صَوَآفَّ"کے معنے ہیں تین پاؤں پر کھڑا ہوا اور فرماتا ہے:"فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوۡبُھَا"جب اونٹ کی کروٹ زمین پر گرے۔معلوم ہوا کہ کھڑا کر کے نحر کرو،نحر کے بعد وہ گرے۔گائے بکری وغیرہ میں ذبح چاہیے،ذبح لٹا کر ہوتا ہے رگیں و حلقوم چوڑائی میں کاٹی جاتی ہیں۔(اشعہ و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2637