Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2635

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ عَشَرَ بُدْنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهٗ فِيهَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلٰى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة عشر بدنة مع رجل وأمره فيها. فقال: يا رسول الله كيف أصنع بما أبدع علي منها؟ قال: «انحرها ثم اصبغ نعليها في دمها ثم اجعلها على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کے ساتھ سولہ ہدی کے اونٹ بھیجے کہ اسی شخص کو ان کا منتظم بنایا ۱؎اس نے عرض کیا یارسول اللّٰه کہ ان میں سے اس کا کیا کروں جو تھک رہے ۲؎فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کے جوتے اس کے خون میں رنگ دو پھر وہ جوتے اس کے کوہان کے حصہ پر رکھ دو ۳؎اور اس سے نہ تم کھاؤ،نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی کھائے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ان صاحب کا نام ناجیہ ابن جندب اسلمی ہے،ان کے ذمہ راستہ کی حفاظت اور وہاں پہنچ کر ذبح کا انتظام تھا،یہ واقعہ حضور علیہ السلام کے حج سے ایک سال پہلے ہی کا ہے جس میں ابوبکر صدیق امیر الحج تھے اور یہ صاحب امیر ہدی اس لیےفیہافرمایا۔
۲
؎ابداعکے معنی ہیں تھک کر رہ جانا،اگر اس کے بعدبآئے تو معنے ہوتے ہیں انسان کا بے سواری رہ جانا کہ وہ سواری پر تھا سواری چلنے کے قابل نہ رہی یہ پیدل رہ گیا اور اگرعلٰیآئے تو معنی ہوتے ہیں جانور کا رہ جانا چونکہ یہ حضرت ہدی پر سوار نہ تھے اس لیےعَلَیَّفرمایا یعنی اگر کوئی ہدی جانور راستہ میں تھک کر آگے چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کا کیا کروں۔
۳
؎تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے علامت ہو کہ یہ ہدی کا جانور ہے تو کوئی امیر نہ کھالے فقراء کھائیں۔
۴
؎خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہدی کا جانور حرم شریف میں پہنچ کروقت پر ذبح ہو تو اسے ہدی والا بھی کھاسکتا ہے اور دوسرے امیروغریب بھی لیکن اگر راستہ ہی میں ذبح کرنا پڑ جائے تو ہدی والا بھی نہ کھائے،کوئی امیر بھی نہ کھائے،یہ صدقہ ہے صرف فقراء کھائیں جیسے قربانی کا جانور اگر قربانی کے دنوں میں ذبح ہو تو قربانی والا اور سارے مسلمان امیر و غریب کھائیں،اگر وقت سے پہلے ذبح کرنا پڑ جائے تو بعض صورتوں میں صرف فقراء کھا سکتے ہیں،قربانی والا اور امراء نہیں کھاسکتے اور بعض صورتوں میں اس کے احکام جداگانہ ہیں۔حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ناجیہ ابن جندب اور ان کے ساتھیوں کو کھانے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ سب حضرات غنی تھے ان میں فقیر کوئی نہ تھا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2635