Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2633

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى رَجُلًا يَسُوقُ بُدْنَةً فَقَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بُدْنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بُدْنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا وَيْلَكَ » فِي الثَّانِيَة أَو الثَّالِثَة(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال: «اركبها» . فقال: إنها بدنة. قال: «اركبها» . فقال: إنها بدنة. قال: «اركبها ويلك » في الثانية أو الثالثة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کا ایک اونٹ ہانک رہا ہے ۱؎فرمایا اس پر سوار ہوجا وہ بولا یہ تو بدنہ ہے۲؎فرمایا سوار ہوجا وہ پھر بولا یہ بدنہ ہے تو دوسری یا تیسری بار میں فرمایا تجھ پر افسوس ہے ارے سوار ہوجا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ خود اس کے پاس سواری نہیں ہے پیدل چل رہا ہے،سخت مشقت میں ہے اور ہدی کو ہانکتا ہوا لے جارہا ہے۔
۲
؎یعنی ہدی ہے،ہدی کو بدنہ اس لیے کہتے ہیں کہ مسلمان ایسے جانور کو کھلاپلا کر خوب موٹا کر تے تھے جیسے آج بعض شوقین اپنی قربانی سال بھر تک کھلا پلاکر موٹی کرتے ہیں،بدنہ کے معنی ہیں ڈیل ڈار لحیم شحیم جانور اسی لیے بکری کو بدنہ نہیں کہتے صرف اونٹ یا گائے کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ" الخ وہاں بھی اونٹ اور گائے ہی مراد ہے۔
۳
؎اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ بدنہ یعنی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا واجب ہے کیونکہ یہ امروجوب کے لیے ہے،بعض نے فرمایا مطلقًا جائز ہے،بعض نے فرمایا جائز ہے مگر اس شرط سے کہ اس سواری سے جانور میں عیب نہ پیدا ہوجائے مگر امام ابوحنیفہ و شافعی رضی اللّٰہ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ مجبورًا و ضرورۃً جائز بلا اجازت منع جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے یہاں پر وہ شخص مجبور و معذور تھا جیساکہ لفظیَسُوْقُسے معلوم ہورہا ہے۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2633