Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5295

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب، هم الذين لا يسترقون، ولا يتطيرون، وعلى ربهم يتوكلون". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے ۱؎فال کے لیے چڑیاں نہیں اوڑاتے ۲؎اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۳؎( مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفار کے چھوچھا سے بچتے ہیں ورنہ قرآنی آیات،دعاء ماثورہ سے دم کرنا سنت ہے بلکہ نامعلوم منتر پڑھنا ہی گناہ ہے جس کے معنی کی خبر نہ ہو کیونکہ ممکن ہے کہ ان الفاظ کے شرکیہ معانی ہوں لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔
۲
؎اہلِ عرب جب کسی کام کو جاتے تو چڑیوں سے فال لیتے تھے کہ کوئی چڑیا دیکھتے تو اسے اڑاتے اگر داہنی طرف اڑ جاتی تو کہتے کہ ہمارا کام ہو جاوے گا،اگر بائیں طرف اڑتی تو کہتے کہ ہمارا کام نہ ہوگا واپس لوٹ آتے یہ حرام ہے۔
۳
؎توکل کے معانی ابھی عرض ہوئے۔یہاں شاید خواص کا توکل مراد ہے یعنی ترک اسباب اور نظر برمسبب الاسباب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5295