Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5306

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي لأَعْلَمُ آيَةً لَوْ أَخَذَ النَّاسُ بِهَا لَكَفَتْهُمْ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْن مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أبي ذر أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إني لأعلم آية لو أخذ الناس بها لكفتهم: ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب ". رواه أحمد وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اسے اختیار کرلیں تو وہ انہیں کافی ہو ۱؎کہ جو الله سے ڈرے گا ۲؎تو الله اس کے لیے چھٹکارا بنادے گا اور بے گمان جگہ سے اسے روزی دے گا ۳؎(احمد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر اس آیت کریمہ پر تمام دنیا عمل کرے دین و دنیا کے رنج و غم سے اور فکروں سے آزاد ہوجاوے،یہ ایک آیت سب کے لیے کافی ہے۔
∞۲
؎یہاں تقویٰ سے مراد تقویٰ عامہ ہے یعنی الله رسول کے احکام پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے بچے رہنا تقویٰ ہے،الله کی بڑی نعمت ہے جس پر اس کا کرم ہوتا ہے اسے تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔
۳
؎اتعالٰی نے اس آیت میں تقویٰ پر وعدے فرمائے ایک تو ہر مشکل و مصیبت سے نجات ملنا اور غیب سے روزی عطا ہونا۔ خیال رہے کہ مصیبت و بلا اور چیز ہے رب تعالٰی کا امتحان کچھ اور،مصیبت سے نجات ملنا چاہیے مگر امتحان میں کامیابی ہونی چاہیے۔ حضرت حسین امام المتقین ہيں کربلا میں انے آپ کو ایسی کامیابی عطا فرمائی جس کی مثا ل نہیں۔شعر
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
لہذا اس آیت کریمہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب حسین یا امام احمد بن حنبل متقی تھے مگر ان سے مصیبت نہ ٹلی،وہ مصیبت نہ تھی آزمائش تھی۔جو شخص اس آیت کریمہ کو ورد میں رکھے اسے دست غیب نصیب ہوجاتاہے ۔ ایک شاعر کہتا ہے
اذا المرء امسی حلیف التقی فلم یخشی من طارق حلہ
الم تسمع الله سبحانہ و من یتق الله یجعل لہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5306