Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5305

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الإِسْمَاعِيلِيِّ فِي "صَحِيحِهِ": فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "اللَّهُ"، فَسَقَطَ السيفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- السَّيْفَ فَقَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ، فَقَالَ: "تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ،فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ" وَفِي "الرِّيَاضِ".

وفي رواية أبي بكر الإسماعيلي في "صحيحه": فقال: من يمنعك مني؟ قال: "الله"، فسقط السيف من يده، فأخذ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- السيف فقال: "من يمنعك مني؟ فقال: كن خير آخذ، فقال: "تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله"؟ قال: لا، ولكني أعاهدك على أن لا أقاتلك ولا أكون مع قوم يقاتلونك، فخلى سبيله،فأتى أصحابه فقال: جئتكم من عند خير الناس. هكذا في "كتاب الحميدي" وفي "الرياض".

حدیث ترجمہ

ابوبکر اسماعیل کی صحیح روایت میں یوں ہے کہ وہ بولا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا میں نے کہا الله تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ۱؎تو تلوار رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے لے لی پھر فرمایا تجھے مجھ سے کون بچائے گا وہ بولا آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو ۲؎فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میںکا رسول ہوں وہ بولا نہیں لیکن میں آپ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ نہ آپ سے جنگ کروں گا اور نہ آپ سے لڑنے والی قوم کے ساتھ رہوں گا ۳؎تو حضور نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۴؎وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا بولا میں تمہارے لوگوں میں سب سے بہترین کے پاس سے آرہا ہوں ۵؎کتاب حمیدی اور ریاض میں یوں ہی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضور کے اس فرمان سے اس پر ہیبت طاری ہوگئی جس کے نتیجہ میں تلوار چھوٹ پڑی؎اس کی باتوں کی لذت پہ دائم درود اس کے خطبہ کی ہیبت پہ لاکھوں سلام
۲
؎اخذکے معنی ہیں پکڑ کرنے والا، بدلہ لینے والا یا تلوار پکڑنے والا یعنی آپ مجھے اس حرکت کا بہترین بدلہ دیجئے کہ خطا میں نے کرلی ہے عطا آپ کردو، گناہ میں نے کرلیا معافی آپ دے دیجئے،جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا جو آپ کی شان عالی کے لائق ہے وہ آپ کرو،پھل والے درخت کو پتھر مارتے ہیں تو وہ ان پر پھل گراتا ہے۔
۳
؎یعنی میں منافق نہیں ہوں کہ دل میں کفر رکھوں اور زبان سے کلمہ پڑھ دوں،ہاں اتنا وعدہ ہے کہ کبھی آپ سے مقابل نہ آؤں گا آپ کے سامنے میری آنکھ نہ اٹھے گی۔
۴
؎یعنی اس سے فرمایا جا تجھے اجازت ہے ہم تجھے معافی دیتے ہیں،حضور نے اسے اپنے دامن کرم میں بلایا تھا مگر وہ آیا نہیں۔؎کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود
اے میرے رب جب تیرے بندہ محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کے رحم خسروانہ عنایت شاہانہ کا یہ حال ہے تو مولٰی تو تو ان کا رب ہے،
ارحم الراحمینہے،تیرے کرم و عفو و سخا کا کیا پوچھنا میرے مولٰی انہیں رؤف رحیم محبوب کا صدقہ ہم مجرموں سے درگزر فرما معافی دے دے۔؎مہ فشاند نورسگ عوعو کند ہر کے برطینت خودمی کند
جب چاند چمکتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہوا حملہ کرتا ہوا اچھلتا ہے تو چاند اس کے کھلے ہوئے منہ میں نور ڈال دیتا ہے،حضور چاند ہیں اس دشمن کو بھی ایمان دے رہے ہیں۔
۵
؎معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بدن تو آزاد ہوگیا مگر دل مقید ہوگیا کیا تعجب ہے کہ بعد میں اسے ایمان بھی نصیب ہوگیا ہو۔والله ورسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5305