Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5300

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، وَإِنَّ الرُّوحَ الأَمِينَ -وَفِي روايةٍ: وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ- نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا،أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ؛ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ".

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أيها الناس ليس من شيء يقربكم إلى الجنة ويباعدكم من النار إلا قد أمرتكم به، وليس شيء يقربكم من النار ويباعدكم من الجنة إلا قد نهيتكم عنه، وإن الروح الأمين -وفي رواية: وإن روح القدس- نفث في روعي أن نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها،ألا فاتقوا الله وأجملوا في الطلب، ولا يحملنكم استبطاء الرزق أن تطلبوه بمعاصي الله؛ فإنه لا يدرك ما عند الله إلا بطاعته". رواه في "شرح السنة" والبيهقي في "شعب الإيمان"إلا أنه لم يذكر: "وإن روح القدس".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اے لوگو نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تم کو جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کردے مگر میں نے تم کو اس کا حکم دے دیا اور نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تمہیں آگ سے نزدیک اور جنت سے دور کردے مگر میں نے تمہیں اس سے منع کردیا ۱؎اور روح الامین نے،ایک روایت میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں ڈالا۲؎کہ کوئی جان نہ مرے گی حتی کہ اپنا رزق پورا کرے ۳؎خیال رکھو کہ الله سے ڈرو تلاش رزق میں درمیانی راہ اختیار کرو۴؎اور رزق میں دیر لگنا تم کو اس پر نہ اکسائے کہ تم اکی نافرمانی سے رزق ڈھونڈو ۵؎کیونکہ الله کے پاس کی چیزیں اس کی فرماں برداری سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں ۶؎( شرح سنہ،بیہقی شعب الایمان) مگر بیہقی نے یہ عبارت روایت نہ کیانّ روح القدس۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تبلیغ مکمل کردی کوئی حکم چھپایا نہیں۔
۲
؎روح القدس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں یہ حدیث وحی خفی ہے۔
۳
؎رزق سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ کھانا پانی،ہوا،دھوپ،زمین پر چلناوغیرہ سب ہی ہے کہ یہ سب چیزیں الله کی دی ہوئی روزی ہیں۔بندہ کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی سانسیں،پانی غذا سب مقرر ہو جاتی ہیں۔جب بندہ اپنا طے شدہ حصہ استعمال کرلیتا ہے تب اسے موت آتی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ مرتے وقت تین چار دن تک بے ہوش پڑے رہتے ہیں صرف سانس لیتے رہتے ہیں،کچھ کھاتے پیتے نہیں کیونکہ ابھی ان کے حصے کی ہوا میں کچھ سانسیں باقی ہوتی ہیں،اپنا پانی کھانا پورا استعمال کرچکتے ہیں وہ سانسیں پوری کرنے کے لیے اس طرح پڑے رہتے ہیں یہ ہے اس حدیث کا ظہور،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ"یہ ہے اس حدیث کی تائید۔
۴
؎یعنی حلال ذریعہ سے روزی کماؤ حرام ذریعوں سے بچو،حرام ذریعوں سے کمانا افراط ہے اور بالکل کمائی نہ کرنا بیکار بیٹھ رہناتفریط درمیانی راہ یہ ہے۔
۵
؎یعنی اگر کبھی روزی کم ملے یا کچھ روز کے لیے نہ ملے تو چوری،جوا،رشوت،خیانت،غصب وغیرہ سے روزی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو حلال کام کیے جاؤ اس کی مہربانی سے امید رکھو؎گر زمیں رابہ آسماں روزی نہ دہندت زیادہ ازروزی
۶
؎یعنی سب کی روزی اکے ہی پاس ہے اگر تم نے اسے حرام ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حرام ہو کر تم تک پہنچی رب بھی ناراض ہوا مگر ملا وہ ہی جو تمہارا حصہ تھا اور اگر حلال ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حلال ہوکر تمہارے پاس پہنچا اتعالٰی بھی راضی ہوگیا ملا تمہارا حصہ ہی۔اس سے معلوم ہوا کہ حرام روزی بھی اکا رزق ہے،نیز اس میں قاعدہ بتایا گیا کہ کسی سے کچھ لینا ہو تو اسے راضی کرکے لو،اسے سب کچھ لینا ہے تو اسے ہمیشہ خوش کرنے کی کوشش کرو۔یہاںما عنداللهسے مراد وہ روزی ہے جو ہم تک حلال راستہ سے پہنچے،بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد جنت ہے۔و الله اعلم!(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5300