Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5308

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَالآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-،فَقَالَ: "لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

وعن أنس قال: كان أخوان على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فكان أحدهما يأتي النبي -صلى الله عليه وسلم- والآخر يحترف، فشكا المحترف أخاه إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-،فقال: "لعلك ترزق به". رواه الترمذي وقال: هذا حديث صحيح غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں دو بھائی تھے ۱؎جن میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آتا تھا ۲؎اور دوسرا کوئی پیشہ کرتا تھا ۳؎تو کماؤ پیشہ والے نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ۴؎تو فرمایا شاید تجھے اس کی برکت سے روزی مل رہی ہے ۵؎(ترمذی اور فرمایا یہ حدیث صحیح غریب ہے)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًاسگے بھائی تھے جن کا کھانا پینا مشترک تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎یہ شخص اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف کرچکا تھا حضور کے پاس علم دین سیکھنے آتا تھا۔یہ رسم آج تک چلی آرہی ہے کہ بعض لوگ اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردیتے ہیں اور مسلمان ان کا خرچہ اٹھاتے ہیں،اصحاب صفہ بھی ایسے ہی لوگ تھے رضی الله عنہم۔
۳
؎مرقات نے فرمایا کہ وہ طالب علم غیر شادی شدہ تھا اور یہ کمانے والا بال بچوں والا تھا اس طالب علم کا خرچہ یہ کماؤ بھائی ہی اٹھاتا تھا۔معلوم ہوا کہ طالب علم کی خدمت کرنا خرچہ دینا بہت بڑی عبادت ہے۔
۴
؎اور عرض کیا حضور اس کو طلب علم سے منع فرمادیں اور اسے کمائی کرنے کا حکم دے دیں تاکہ یہ اپنی دنیا سنبھال لے اس کی شادی وغیرہ کا انتظام ہوسکے مجھ سے اس کا بوجھ اتر جائے۔
۵
؎یعنی تو اسے علم دین سیکھنے دے اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا الله تعالٰی اس کا رزق تیرے دستر خوان پر بھیجے گا،تجھے برکتیں ہوں گی۔اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بعض لوگوں کا اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردینا سنت صحابہ ہے ۔عالم دین بننا فرض کفایہ ہے،بقدر ضرورت علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔دوسرے یہ کہ ان طالب علموں کا خرچ مسلمانوں کو اٹھانا چاہیےان شاءاللهاس میں بڑی برکت اور بڑا ثواب ہے۔تیسرے یہ کہ اپنے غریب قرابت داروں کی مددکرنا بڑی برکت کا باعث ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ"اور جب ایک شخص غریب بھی ہو،قرابت دار بھی اور طالب علم بھی اس پر خرچہ کرنا نور علی نور ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کالعلفرمانا شک کے لیے نہیں،کریموں کی شاید بھی یقینی بلکہ حق الیقینی ہوتی ہے۔حدیث شریف میں ہےوھل ترزقون الا بضعفاءکموہ حدیث اس فرمان عالی کی شرح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5308